ججز ٹرانسفر کیس، جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس پاکستان کو خط بھیج دیا

ججز ٹرانسفر کیس، جسٹس بابر ستار نے چیف جسٹس پاکستان کو خط بھیج دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے ججز کے مجوزہ تبادلوں کے معاملے پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے جوڈیشل کمیشن کے سربراہ کی حیثیت سے معاملہ ذاتی طور پر سننے کی استدعا کی ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس بابر ستار نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 200 کے تحت کسی بھی جج کے تبادلے سے قبل متعلقہ جج کو سنا جانا آئینی تقاضا ہے، لہٰذا جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں انہیں مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلوں سے متعلق جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا اہم اجلاس آج ہوگا، جس میں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس ثمن رفعت امتیاز، جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے نام زیر غور آئیں گے۔ ان ججز کو مختلف صوبائی ہائی کورٹس میں ٹرانسفر کرنے کی تجاویز سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے ابتدائی طور پر اس اجلاس کے انعقاد پر تحفظات کا اظہار کیا تھا اور مجوزہ تبادلوں کو عدالتی خودمختاری کے لیے حساس معاملہ قرار دیا تھا، تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی جانب سے 5 ارکان کی ریکوزیشن کے بعد اجلاس طلب کیا گیا۔یہ اجلاس ججز ٹرانسفر سے متعلق نہ صرف ایک اہم آئینی نظیر قائم کر سکتا ہے بلکہ عدلیہ کے اندر اختیارات، سینیارٹی اور عدالتی آزادی سے متعلق بحث کو بھی مزید گہرا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔