اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان میں فی کس مچھلی کا استعمال دنیا کے کم ترین ممالک میں شامل ہے جو سالانہ تقریبا 2 کلوگرام ہے جبکہ عالمی اوسط 20.5 کلوگرام ہے۔ یہ فرق رسد، تقسیم اور غذائی رجحانات میں موجود گہرے ساختی مسائل کو ظاہر کرتا ہے۔پلاننگ کمیشن کی تیار کردہ رپورٹ "بلو اکانومی اڑان پاکستان 2026" کے مطابق گزشتہ بیس برسوں میں پاکستان میں مچھلی کے استعمال میں معمولی اضافہ ہوا ہے جو 2000 کی دہائی کے آغاز میں تقریبا 1 کلوگرام فی کس سے بڑھ کر حالیہ برسوں میں تقریبا 2 کلوگرام تک پہنچا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1,001 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی اور وسیع اندرونی آبی وسائل کے باوجود پاکستان مچھلی کو اپنے قومی غذائی نظام کا مثر حصہ نہیں بنا سکا۔ ثقافتی غذائی ترجیحات، محدود دستیابی اور قیمت جیسے عوامل نے مچھلی کے کم استعمال کو برقرار رکھا ہے۔رسدی نظام کی کمزوریاں بھی اس میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ناکافی کولڈ سٹوریج، ناقص نقل و حمل کا نظام اور کمزور منڈی روابط ساحلی اور پیداواری علاقوں سے اندرونِ ملک منڈیوں تک مچھلی کی فراہمی کو محدود کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بڑی آبادی کو تازہ اور سستی مچھلی دستیاب نہیں ہو پاتی۔مزید یہ کہ مقامی منڈیوں تک پہنچنے والی مچھلی کا معیار اکثر خراب سنبھال اور مناسب تحفظ کے نظام کی کمی کے باعث متاثر ہوتا ہیجس سے صارفین کا اعتماد کم ہوتا ہے اور طلب میں کمی آتی ہے۔رپورٹ کے مطابق اعلی معیار کی مچھلی کا ایک بڑا حصہ برآمد کر دیا جاتا ہے جبکہ مقامی صارفین کو نسبتا کم معیار کی مچھلی ملتی ہے۔ یہ عدم توازن مچھلی کو مرغی اور گوشت کے مقابلے میں کم پسندیدہ پروٹین ذریعہ بنا دیتا ہے۔غذائی لحاظ سے مچھلی کا کم استعمال درست نہیں کیونکہ یہ پروٹین اور ضروری غذائی اجزا کا اہم ذریعہ ہے۔ اس کے استعمال میں اضافہ غذائی تحفظ کو بہتر بنانے اور خوراک میں تنوع لانے میں مدد دے سکتا ہے۔رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مقامی سطح پر مچھلی کے استعمال میں اضافہ کرنے کے لیے رسدی نظام کو مضبوط بنانااور نقل و حمل کے ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنا اور مچھلی کے غذائی فوائد سے متعلق آگاہی بڑھانا ضروری ہے۔اس کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک آبی زراعت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مقامی منڈیوں کے لیے مچھلی کی مستقل اور سستی فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور سمندری شکار پر انحصار کم کیا جا سکے۔رپورٹ کے مطابق رسد سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنا اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانا مچھلی کے استعمال میں اضافے اور ماہی گیری کے شعبے کو پاکستان کے وسیع غذائی نظام میں مثر طور پر شامل کرنے کے لیے نہایت اہم ہوگا۔