زحل کے چاند ٹائٹن پر دریاؤں اور سمندروں کی حیران کن خصوصیات سامنے آ گئیں

زحل کے چاند ٹائٹن پر دریاؤں اور سمندروں کی حیران کن خصوصیات سامنے آ گئیں

کچھ عرصہ پہلے سائنسدانوں نے حیران کن انکشاف کیا تھا کہ زحل کے سب سے بڑے چاند ٹائٹن کی سطح پر دریا اور سمندر موجود ہیں۔

 اب ایک تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں موجود دریاؤں کے باوجود ڈیلٹا نہیں پائے جاتے۔لائیو سائنس کی رپورٹ کے مطابق، ٹائٹن زمین کے بعد نظامِ شمسی میں واحد ایسی جگہ ہے جہاں مائع سطح پر بہتا ہے، لیکن حیران کن طور پر وہاں دریا سمندر میں گرنے کے باوجود ڈیلٹا نہیں بناتے۔اس تحقیق کے سربراہ سیم بیرچ نے بتایا کہ یہ دریافت سائنسدانوں کے لیے غیر متوقع اور مایوس کن ہے۔ ان کے مطابق زمین پر جہاں بھی دریا سمندر میں گرتے ہیں، وہاں ڈیلٹا بنتے ہیں، لیکن ٹائٹن اس اصول سے مختلف ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہم یہ معمول کی بات سمجھتے ہیں کہ جہاں دریا ہوں گے وہاں ڈیلٹا بھی ہوگا، مگر ٹائٹن کی صورتحال بالکل الگ ہے، جو ایک ماہر ارضیات کے لیے حیرت اور مایوسی دونوں کا باعث ہے کیونکہ ڈیلٹا عام طور پر کسی سیارے یا چاند کی ارضیاتی تاریخ کو محفوظ رکھنے میں مددگار ہوتے ہیں۔‘‘

ڈیلٹا کیا ہوتا ہے؟
ڈیلٹا دریا کے سمندر میں گرنے سے قبل اُس مقام پر بنتا ہے جہاں دریا کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور وہ کئی چھوٹی چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہو کر سمندر میں جا گرتا ہے۔ یہ مقام عام طور پر تکونی شکل کا ہوتا ہے۔واضح رہے کہ اس سے قبل ناسا کے کیسینی مشن نے ٹائٹن کی سطح پر مائع میتھین سے بھرے دریاؤں اور سمندروں کی موجودگی کا ثبوت فراہم کیا تھا، مگر اب سائنسدانوں کو اس چاند کی ساحلی خصوصیات کو مکمل طور پر سمجھنے میں نئی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔