بھارتی حکام کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزہ کی مدت میں کمی اور پابندیوں کے تحت ایک اور پاکستانی خاندان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اتر پردیش کی رہائشی ثناء اپنے بچوں کے ساتھ اٹاری واہگہ بارڈر پر پاکستان جانے کی کوشش میں تھیں، لیکن بھارتی حکام نے انہیں اپنے شوہر کے پاس جانے کی اجازت نہیں دی۔ثناء، جو 2020 میں پاکستانی ڈاکٹر بلال سے شادی کے بعد پاکستان منتقل ہوئی تھیں، حال ہی میں اپنے والدین سے ملنے بھارت آئیں تھیں۔ ان کے 3 سالہ بیٹے اور ایک سالہ بیٹی کے پاس پاکستانی پاسپورٹ تھے، تاہم ثناء کے پاس بھارتی پاسپورٹ ہونے کے سبب حکام نے انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں دی اور انہیں واپس میرٹھ جانے کا حکم دیا۔ثناء نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے روتے ہوئے کہا کہ "میرے بچے اکیلے نہیں رہ سکتے اور میں بھی ان کے بغیر نہیں رہ سکتی۔" وہ اپنے شوہر سے ملنے کے لیے بارڈر پر موجود تھیں، لیکن بھارتی حکام کی جانب سے انہیں اجازت نہ مل سکی۔ اس موقع پر وہ اپنے بچوں کے ہمراہ پاکستان جانے کے لیے پرعزم تھیں۔ثناء اور ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ بارڈر پر کئی دل دہلا دینے والے مناظر دیکھے گئے، جہاں کمسن بچے اپنی ماؤں کو الوداع کہہ کر اکیلے اپنے والد کے پاس پاکستان جا رہے تھے۔
ثناء نے بھارتی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ "پہلگام حملے کی سزا معصوم شہریوں اور بچوں کو نہ دی جائے" اور مطالبہ کیا کہ انہیں اپنے بچوں کے ہمراہ پاکستان جانے کی اجازت دی جائے۔یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی حکومت نے ایک حکم نامے کے ذریعے 12 مختلف ویزہ کیٹیگریز کے پاکستانی شہریوں کو 28 اپریل تک بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ میڈیکل ویزہ رکھنے والوں کے لیے 29 اپریل کی آخری تاریخ مقرر کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق گزشتہ دو دنوں میں 250 سے زائد پاکستانی شہری اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے بھارت چھوڑ چکے ہیں۔