میٹا کی جانب سے واٹس ایپ پر متعارف کرایا گیا اے آئی اسسٹنٹ فیچر صارفین کے لیے مسئلہ بن گیا ہے۔
دنیا بھر خصوصاً یورپ میں واٹس ایپ صارفین کی شکایات سامنے آئی ہیں کہ وہ اس نئے فیچر کو اپنی مرضی سے غیرفعال نہیں کر پا رہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں، چیٹ انٹرفیس میں نیلے رنگ کا ایک دائرہ (جو میٹا کا اے آئی اسسٹنٹ ہے) مسلسل نظر آتا ہے۔ یہ فیچر صارفین کی خودمختاری اور کنٹرول پر سوالات اٹھا رہا ہے کیونکہ انہیں یہ اختیار نہیں دیا جا رہا کہ وہ اسے بند کر سکیں یا اپنی مرضی سے فعال کریں۔رپورٹس کے مطابق، میٹا نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ فیچر صارفین کی مرضی کے مطابق استعمال کیا جا سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ فیچر خود بخود چیٹ انٹرفیس میں ظاہر ہوتا ہے، اور صارفین کو اس سے نجات حاصل کرنے کا کوئی واضح طریقہ نہیں مل رہا۔ اس فیچر کے ذریعے اے آئی اسسٹنٹ سوالات کے جواب دے سکتا ہے، تصاویر بنا سکتا ہے، اور دیگر معلومات فراہم کر سکتا ہے، لیکن اس کا خود بخود ظاہر ہونا کچھ صارفین کے لیے مشکل بن رہا ہے، جو اسے اپنی پرائیویسی میں مداخلت سمجھ رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، صارفین نے یہ بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا میں ذاتی معلومات یا ممکنہ طور پر پائریٹڈ مواد شامل ہو سکتا ہے، جس کے ذریعے ڈیٹا کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیچر کا خود بخود فعال ہونا صارفین کی پرائیویسی کی خلاف ورزی کر سکتا ہے اور انہیں اپنی معلومات کی حفاظت کے بارے میں مزید احتیاط کرنی چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ ایسے اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے استعمال ہونے والا ڈیٹا، اگر درست طریقے سے محفوظ نہ ہو، تو صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے غلط استعمال کا باعث بن سکتا ہے۔یہ فیچر ابھی تک تمام واٹس ایپ صارفین کے لیے ایک پریشانی کا باعث بن رہا ہے، اور کئی صارفین نے مطالبہ کیا ہے کہ میٹا اس فیچر کی سیٹنگ میں تبدیلی کرے تاکہ وہ اس سے بہتر طریقے سے اپنی پرائیویسی کو کنٹرول کر سکیں۔