بھارتی ایئر لائنز کو پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث یومیہ 21 کروڑ روپے کا ایندھن کا نقصان

بھارتی ایئر لائنز کو پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث یومیہ 21 کروڑ روپے کا ایندھن کا نقصان

پاکستانی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایئر لائنز کو روزانہ ایندھن کی مد میں بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔

 یہ بندش بھارتی طیاروں کو اپنے روایتی راستوں سے دور کرکے طویل پروازیں کرنے پر مجبور کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ان کے ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایندھن کے خرچ کا تجزیہ:

بوئنگ 777 طیارہ ہر گھنٹے میں 5467 ڈالر کا 6668 کلوگرام ایندھن استعمال کرتا ہے۔
ایئر بس اے 320 طیارہ 1 گھنٹے میں 1948 ڈالر کا 2400 کلوگرام ایندھن جلاتا ہے۔
وکی پیڈیا کے مطابق، ایک کلوگرام جیٹ ایندھن کی اوسط قیمت 82 ڈالر کے قریب ہے۔ اس قیمت کی بنیاد پر:

بوئنگ 777 طیارہ اضافی 100 گھنٹوں کی پرواز کے دوران 5 لاکھ 46 ہزار 776 ڈالر کا ایندھن خرچ کرتا ہے۔
ایئر بس اے 321 طیارہ 100 گھنٹے کی اضافی پرواز پر 1 لاکھ 96 ہزار ڈالر خرچ کرتا ہے۔
پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے متعلق نقصانات: ایوی ایشن ذرائع کے مطابق، بھارتی ایئر لائنز کو یومیہ 21 کروڑ پاکستانی روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ یہ نقصان ایندھن کی اضافی کھپت اور اضافی پروازوں کے اخراجات کی وجہ سے ہو رہا ہے، کیونکہ بھارت کی فضائی کمپنیاں پاکستان کی فضائی حدود کو عبور کرنے کے بجائے دیگر طویل راستوں کا انتخاب کر رہی ہیں۔

یہ صورت حال بھارتی ایئر لائنز کے لیے اقتصادی طور پر مشکل بناتی ہے، کیونکہ اضافی ایندھن کا خرچ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اضافی پروازیں طیاروں کی کارکردگی اور ایندھن کی کمائی پر بھی اثرانداز ہو رہی ہیں۔یہ صورتحال بھارت کی فضائی صنعت کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات عالمی فضائی نقل و حمل کی صنعت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔