قدرتی وسائل سے اقتصادی ترقی کا راستہ

سمیع اللہ ملک (آخری قسط)
 کوئلے سے پیدا ہونے والی آلودگی اورماحولیاتی خدشات نے مقامی آبادی کی صحت عامہ کیلئے کچھ مسائل کھڑے کئے ہیں۔اس کے علاوہ مقامی لوگوں کی شکایات کہ انہیں روزگار،زمین،یامنافع میں مناسب حصہ نہیں ملتااوراس کے ساتھ ہی تھرمیں پانی کی قلت اورکوئلہ نکالنے کے عمل میں پانی کااستعمال تنازع کاباعث بن رہاہے۔
اس سرمایہ کاری کے سلسلے میں زمینی حقائق اورقانونی وانتظامی رکاوٹیں بھی راستہ روکے کھڑی ہیں جس میں پیچیدہ قوانین،ریڈ ٹیپ،غیر شفاف لائسنسنگ کے معاملات منہ کھولے کھڑے ہیں۔سیندک جیسے کامیاب منصوبوں میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔سیاسی اورصوبائی تضادات کوختم کرنے کیلئے فوری طورپرخیبرپختونخواکانئے مائننگ بل پراعتراض دورکرنے کیلئے انہیں اعتمادمیں لیاجائے۔صوبوں کووفاقی اختیارات میں مداخلت کے خدشات کاحل نکالاجائے۔
 بلوچستان میں شورش ختم کرنے کیلئے،شمالی علاقوں میں دہشتگردی کیلئے اورسرمایہ کاروں کی حفاطت پرخدشات کوختم کرنے کیلئیصوبوں کے تعاون سے فول پروف پالیسیوں کاپیشگی اعلان کیاجائے اوراس انتظام پراٹھنے والے اخراجات کیلئے صوبوں سے معاونت کی جائے۔گلگت بلتستان،بلوچستان،کے پی کے مقامی لوگ شفاف معاہدوں میں منافع میں شراکت،زمین وثقافت کے تحفظ کا مطالبہ کررہے ہیں،ان کے جائزمطالبات تسلیم کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔
ایس آئی ایف سی(تیزرفتارفیصلے کرنے والاپلیٹ فارم)جیسے ادارے کے قیام کے خوش آئندفیصلے پرصوبائی خود مختاری پرخدشات کومل بیٹھ کرحل کرنے کی کوشش کی جائے تاہم فوج کی طرف سے آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے سرمایہ کاروں کومکمل سکیورٹی دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اعلان کیاہے کہ پاکستان ایک قابل اعتمادشراکت دار ہے،سیکورٹی فریم ورک کویقینی بنایاجائے گا۔
ایس آئی ایف سی(تیزرفتارفیصلے کرنے والاپلیٹ فارم)جیسے ادارے کے قیام کے خوش آئند فیصلے پرصوبائی خودمختاری پر خدشات کومل بیٹھ کرحل کرنے کی کوشش کی جائے تاہم فوج کی طرف سے آرمی چیف جنرل عاصم منیرنے سرمایہ کاروں کو مکمل سکیورٹی دینے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اعلان کیاہے کہ پاکستان ایک قابل اعتماد شراکت دارہے،سیکورٹی فریم ورک کو یقینی بنایاجائے گا۔
اسی حوالے سے مقتدرحلقوں کی توجہ ایک اورایسے قومی خزانے کی طرف مبذول کرواناچاہتا ہوں جس پرپچھلی سات دہائیوں کی مجرمانہ غفلت سے ملک کوکروڑوں ڈالرکانقصان ہوچکاہے۔یہ ایک نہایت اہم اورحساس مسئلہ ہے جونہ صرف پاکستان کی معیشت بلکہ اس کی ثقافتی وراثت اورقدرتی وسائل کے تحفظ سے بھی جڑاہواہے۔پاکستان کے"ہمالیائی گلابی نمک کوانڈیاکی طرف سے عالمی منڈی میں"انڈین ہمالیئن سالٹ"کے نام سے فروخت کرناایک قسم کی تجارتی چالاکی،دھوکہ دہی اورغلط نمائندگی ہے،جس کا مقصدپاکستان
کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاکرخودکومنافع پہنچاناہے۔
یادرہے کہ یہ نمک صرف پاکستان کے ضلع جہلم میں واقع"کھیوڑہ"کی کانوں سے حاصل ہوتاہے،جودنیاکی دوسری سب سے بڑی نمک کی کان ہے۔ پاکستان دنیابھرمیں یہ نمک بڑی مقدارمیں برآمدکرتاہے،مگراکثریہ نمک بغیربرانڈیاغیرمناسب لیبلنگ کے برآمدہوتا ہے،جس سے دوسرے ممالک (خاص طورپرانڈیا)اسے ری پیکیج کرکے اپنانام لگاکر بیچتے ہیں۔انڈیا’’ہمالیئن پنک سالٹ‘‘کے لیبل سے اس نمک کومارکیٹ کررہاہے،جبکہ یہ نمک انڈیا میں کہیں پیدانہیں ہوتا۔اس مسئلے کے تدارک کیلئے حکومت پاکستان کودرج ذیل اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
٭پاکستان کواپنے گلابی نمک کی عالمی رجسٹریشن کیلئے:جیوگرافیکل انڈی کیشن"یعنی جی آئی ٹیگ کے حصول کیلئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جیسے باسمتی چاول پر پاکستان نے جی آئی ٹیگ کے ذریعے یورپ میں حق تسلیم کروایا،ویسے ہی گلابی نمک کیلئیبھی جی آئی ٹی رجسٹریشن کراناضروری ہے۔جی آئی ٹیگ کسی مخصوص علاقے میں پیداہونے والی منفرداشیاکی قانونی شناخت ہوتاہے،جودنیابھرمیں اس کی اصلیت اورماخذکوتسلیم کراتا ہے۔
٭عالمی اداروں میں انڈیاکی غلط لیبلنگ کے خلاف عالمی سطح پرقانونی کاروائی کیلئے ڈبلیوٹی او(ورلڈ ٹریڈآرگنائزیشن)اورڈبلیوآئی پی او(ورلڈانٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن) میں کیس دائرکیاجاسکتاہے۔یہ بالکل ویساہی کیس ہوسکتاہے جیسے باسمتی چاول پرہواتھا۔
٭نمک کی برآمدپرپالیسی ریویو کرتے ہوئے برآمدسے قبل نمک کومناسب لیبلنگ،برانڈنگ اورپیکجنگ کے ساتھ بھیجنے کی پالیسی بنانی چاہیے۔جس کیلئے’’کھیوڑہ اوریجنـ‘‘ اور میڈ ان پاکستان’’جیسے لیبلزلازمی قراردیئے جائیں۔
٭حکومت کوچاہیے کہ وہ دنیابھرمیں موجود سفارتخانوں کے ذریعے ایک عوامی وسفارتی مہم چلائے جس میں بتایاجائے کہ یہ نمک صرف پاکستان میں پایاجاتاہے۔بین الاقوامی تجارتی میلے،نمائشیں اورمیڈیامیں اس کاپرچارکیاجائے۔
٭مقامی صنعت کی بہتری کیلئے نمک کی پروسیسنگ،پیکنگ اوربرانڈنگ کیلئیمقامی صنعتکاروں کوسبسڈی اورٹریننگ فراہم کی جائے تاکہ وہ بین الاقوامی معیارپرنمک ایکسپورٹ کرسکیں۔
انڈیانے بھی باسمتی کوصرف اپنی پراڈکٹ ظاہرکرکے یورپی یونین میں رجسٹریشن کرانے کی کوشش کی تھی۔پاکستان نے مثر قانونی دلائل اورتاریخی شواہدکے ساتھ اپنادعویٰ ثابت کیا ۔نتیجتا،یورپی یونین نے باسمتی کوپاکستانی پراڈکٹ تسلیم کرتے ہوئے انڈیا کومتنبہ کیاکہ وہ اپنے کسی بھی چاول کے ساتھ ’’باسمتی‘‘کاٹائیٹل استعمال نہیں کرسکتاالبتہ انڈین چاول کہہ سکتاہے۔اسی طرح گلابی نمک کے بارے میں پاکستان کامؤقف تواورزیادہ مضبوط ہے۔پاکستان کے پاس گلابی نمک کے حوالے سے تاریخی،جغرافیائی اورقانونی جوازموجودہے ۔ اگرحکومت سنجیدگی سے اس معاملے پر توجہ دے،تونہ صرف عالمی مارکیٹ میں پاکستان کی شناخت مضبوط ہوگی بلکہ ملک کوقیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔
یادرکھیں!پاکستان معدنی دولت سے مالامال ملک ہے،لیکن انتظامی،سیاسی اورسکیورٹی رکاوٹیں اس دولت کوقومی خوشحالی میں تبدیل کرنے کی راہ میں حائل ہیں۔اگران چیلنجزپر قابو پالیاجائے توپاکستان اپنی معیشت کوصرف چندبرسوں میں ایک نئی بلندی تک لے جاسکتاہے۔پاکستان کے پاس قیمتی معدنی وسائل کی کمی نہیں،لیکن ان سے بھرپورفائدہ نہ اٹھانا ایک المیہ ہے۔شفاف پالیسی، شراکت دارانہ ترقی اورسکیورٹی کی بحالی کے بغیریہ وسائلسوئے ہوئے دیوہی رہیں گے۔اگرسیاسی وانتظامی استحکام،شفاف قوانین،مقامی شرکت داری اورعالمی معیار کے مطابق منصوبہ بندی کی جائے تویہ ذخائرملک کی معیشت کونئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔مقامی آبادی کواعتمادمیں لے کر،غیرملکی سرمایہ کاروں کوبہتر ماحول فراہم کرکے،اورسیاسی ارادے کومضبوط بناکر پاکستان معدنیات سے حاصل ہونے والی دولت سے اپنی معیشت کوایک نئی بلندی تک لے جاسکتاہے۔
چنیوٹ میں لوہے اورتانبے کے ذخائرکی دریافت پاکستان کیلئیایک اہم قدم ثابت ہوسکتی ہے،جبکہ شمالی علاقوں میں سونے کے ذخائرکی موجودگی اس بات کوثابت کرتی ہے کہ پاکستان میں معدنیات کی کافی دولت موجودہے۔تاہم،ان ذخائرسے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت کومضبوط حکمت عملی اوربین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں عالمی سطح پراپنی اہمیت بڑھاسکے۔
اٹک میں سونے کی موجودگی کاحالیہ دعوی ایک امیدافزاپیش رفت ہے،لیکن جب تک اس کی مکمل جیولوجیکل تصدیق،کمرشل ویلیویشن اورمائننگ انفرا سٹرکچر کاقیام نہ ہو،یہ دعویٰ محض مفروضہ ہی رہے گاالبتہ یہ بات واضح ہے کہ پاکستان میں سونے جیسی قیمتی دھات کے وسیع امکانات موجود ہیں،خصوصا بلوچستان،خیبرپختونخوااورپنجاب میں۔ان ذخائر سے استفادہ کرنے کیلئے حکومت کوشفاف حکمتِ عملی،جدیدٹیکنالوجی،اورعالمی سطح پرقابلِ اعتماد شراکت داری کی ضرورت ہے۔
پاکستان معدنی وسائل کے میدان میں ایک بڑی قوت بننے کی صلاحیت رکھتاہے۔تاہم،یہ صلاحیت صرف اسی وقت کارگرثابت ہو سکتی ہے جب ہم چیلنجزکاادراک کرتے ہوئے سنجیدہ اصلاحات،مقامی شراکت داری،اورعالمی سرمایہ کاری کیلئے پراعتمادماحول پیداکریں۔
٭شفاف سرمایہ کاری فریم ورک بنایاجائے جومقامی حقوق کی ضمانت دے۔
٭پربلوچستان اورخیبرپختونخوا میں سیکیورٹی اورگورننس کوبہتربنایاجائے ۔
٭منرل اکنامک زونزکو فعال اوربااختیاربنانے کیلئے انرجی اوراسٹریٹجک منرلزپرقومی پالیسی تشکیل دی جائے ۔
٭قانون سازی میں ہم آہنگی پیداکی جائے تاکہ وفاق اورصوبے ایک صفحے پر ہوں۔
پاکستان کی معدنیات کے ذخائرکے حوالے سے متعدد اہم دعوے اورتحقیقات کی گئیں ہیں۔میں نے آج بلاکم وکاست پاکستان کے مختلف علاقوں میں معدنیات کی اس رپورٹ میں چنیوٹ کے ذخائر،شمالی علاقوں میں سونے کے ذخائر،اوردیگر متعلقہ پہلوں کوتفصیل سے بیان کیاہے اوراس کے ساتھ ہی بیوریو کریسی  اوردیگر اداروں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی دی ہیں تاکہ صاحبانِ اقتداراس غریب اورمقروض ملک پررحم کرتے ہوئے اس پراپنی بھرپورتوجہ دیں کہ قوم کوان سنہرے خواب دکھانے کی بجائے عملی اقدامات کی اشدضرورت ہے۔