ہر قسم کی دہشتگردی عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرات میں سے ایک ،سلامتی کونسل کی پہلگام واقعہ کی مذمت ،متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی و تعزیت کا اظہار

سلامتی کونسل نے جموں وکشمیر کو متنازع علاقہ قرار دیدیا پاکستان کو سفارتی کامیابی ،بھارت کوسبکی کاسامنا،من پسند قرارداد منظورکرانے میںناکام رہا
  اس طرح کی کارروائیاں کوئی بھی کرے، کہیں بھی کی جائیں اور ان کا جو بھی مقصد ہو مجرمانہ اور ناقابل قبول ہیں،سلامتی کونسل کابیان،اقوام متحدہ خطے کی صورتحال پر انتہائی تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے، بھارت اور پاکستان صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کیلئے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں،اہلکار
  پلوامہ حملے کے بعد جاری بیان کی طرح سخت زبان استعمال نہیں کی گئی،بھارت کی جگہ صرف تمام متعلقہ حکام کے الفاظ استعمال کیے گئے،پاکستان نے سفارتی کوششوں سے متنازع الفاظ شامل نہیں ہونے دئیے،پاکستان نے لفظ جموں و کشمیر شامل کرایا، بھارت چاہتا تھا لفظ پہلگام شامل ہو
نیویارک( آئی این پی )اقوام متحدہ کی سلامتی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں پیش آنے والے واقعے کی مذمت کی ہے تاہم بھارت کی پاکستان کے خلاف خواہش پوری نہ ہو سکی،سلامتی کونسل نے جموں وکشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازع علاقہ قرار دے دیا۔ میڈیارپورٹس کے مطابق پاکستان کی سفارتکاری کام کر گئی، پلوامہ حملے کے بعد جاری بیان کی طرح اس بار سخت زبان استعمال کرنے کی بھارت کی خواہش پوری نہیں ہوسکی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کو سبکی کاسامنا کرناپڑا ہے ۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں پیش آنے والے واقعے پر اظہار مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں سلامتی کونسل نے کہا ہے کہ ہر قسم کی دہشتگردی عالمی امن اور سلامتی کیلئے سنگین خطرات میں سے ایک ہے، اس طرح کی کارروائیاں کوئی بھی کرے، کہیں بھی کی جائیں اور ان کا جو بھی مقصد ہو مجرمانہ اور ناقابل قبول ہیں۔ تاہم پلوامہ حملے کے بعد جاری بیان کی طرح سخت زبان استعمال نہیں کی گئی۔سلامتی کونسل کے بیان میں بھارت کی جگہ صرف تمام متعلقہ حکام کے الفاظ استعمال کیے گئے۔سلامتی کونسل میں بیان امریکا نے تجویز کیا تھا، متفقہ بیان منظور نہیں ہو سکا، پاکستان نے سفارتی کوششوں سے متنازع الفاظ شامل نہیں ہونے دئیے۔پاکستان نے لفظ جموں و کشمیر بھی بیان میں شامل کرایا، بھارت چاہتا تھا لفظ پہلگام شامل ہو تاکہ یہ تاثر ہو کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت ہڑپ کر چکا ہے۔پہلگام لفظ شامل کرنے میں ناکامی کے ساتھ بھارت فوری اظہار مذمت بھی نہیں کرا سکا، پہلگام میں حملہ 22 اپریل کو ہوا تھا، مذمتی بیان 4 دن بعد 26 اپریل کو جاری ہوا۔ اقوام متحدہ اہلکار کا کہنا تھا اقوام متحدہ خطے کی صورتحال پر انتہائی تشویش کے ساتھ نظر رکھے ہوئے ہے، بھارت اور پاکستان صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچانے کیلئے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں۔