اترکھنڈ کے ضلع اتراکاشی کے گاؤں دھرالی میں 5 اگست کو آنے والے کلاؤڈ برسٹ اور اس سے لاحق سیلاب نے تباہی مچا دی تھی۔
تقریباً 34 سیکنڈ میں گاؤں ملبے تلے دب کر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ اس حادثے میں درجنوں افراد لاپتہ ہو گئے تھے اور سڑکیں، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا تھا۔اب ریاستی حکومت نے 67 لاپتہ افراد کو مردہ قرار دیتے ہوئے ان کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کا انتظام کیا ہے۔ اس اقدام کے بعد اہل خانہ کو مالی امداد بطور راحت فراہم کی جائے گی۔ ڈیتھ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے لیے ہر لاپتہ شخص کے متعلق الگ شکایت درج کرانا ہوگی، جس کے بعد 30 دن کا نوٹس دیا جائے گا، اور اگر اس دوران کوئی اعتراض نہ آئے تو سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سال مون سون کی بارشوں، لینڈ سلائیڈز، کلاؤڈ برسٹ اور سیلاب کی شدت نے بھارت کے کئی شمالی پہاڑی علاقوں کو متاثر کیا ہے۔ دھرالی حادثہ بھی اسی سلسلے کی ایک شدید مثال ہے۔یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شمالی پہاڑی ریاستوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر الرٹ سسٹمز، سیلاب کنٹرول اور ہنگامی امدادی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔