ایران نے جوہری تنازعہ پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سفیروں کو فوری واپس بلا لیا

ایران نے جوہری تنازعہ پر جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے سفیروں کو فوری واپس بلا لیا

ویب ڈیسک: ایران نے اپنے جوہری پروگرام اور بین الاقوامی پابندیوں سے متعلق تناؤ میں جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات سفیروں کو فوری طور پر واپس بلا لیا۔

یہ اقدام تینوں یورپی ممالک کے ایران کے خلاف “ٹرگر میکانزم” (Snapback Mechanism) کو فعال کرنے کے ردعمل میں احتجاج کے طور پر کیا گیا۔

ایران کی وضاحت
ایرانی سرکاری ٹی وی نے تینوں یورپی ممالک کے اقدام کو غیر ذمہ دارانہ اور ظالمانہ قرار دیا۔ایران نے کہا: "ہم دباؤ میں آکر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔"ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں سے مذاکرات کیے، لیکن کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہ ہوا۔ایران کے صدر مسعود پزیشکیان نے بھی تسلیم کیا کہ یورپی ممالک کے ساتھ توقعات کے مطابق مشاورت نہیں ہوئی۔ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اعلان کیا کہ ملک کسی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا اور قومی مفادات اور جوہری پروگرام کے حق میں ڈٹا رہے گا، چاہے اس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کیوں نہ ہوں۔
ٹرگر میکانزم کیا ہے؟
“ٹرگر میکانزم” یا Snapback Mechanism ایران کے ساتھ عالمی قوتوں کے جوہری معاہدے (JCPOA – Joint Comprehensive Plan of Action) میں شامل قانونی ردعمل ہے۔اگر کسی معاہدے کے فریق کو شک ہو کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے، تو وہ اس میکانزم کے تحت معاملے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل تک لے جا سکتا ہے۔سلامتی کونسل میں شکایت درست ثابت ہونے پر ایران کو ملنے والی رعایتیں ختم ہو جاتی ہیں اور پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جاتی ہیں۔اگر سلامتی کونسل 30 دن میں ایران پر پابندیوں کو روکنے کے لیے کوئی متفقہ قرارداد منظور نہ کرے، تو پابندیاں خودکار طور پر دوبارہ نافذ ہو جاتی ہیں۔اس میکانزم کو “ٹرگر” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ ایک بار فعال ہونے کے بعد پابندیاں لازمی طور پر لاگو ہوتی ہیں، چاہے کسی ملک کو پسند ہو یا نہ ہو، اور اس پر ویٹو کا حق بھی لاگو نہیں ہوتا۔
موجودہ صورتحال
28 اگست کو برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران کے خلاف ٹرگر میکانزم کو فعال کیا تھا۔ان تینوں ممالک نے اطلاع دی کہ ایران نے معاہدے پر عمل درآمد میں شدید کمی کی ہے۔اگر سلامتی کونسل نے پابندیوں کو روکنے کے لیے قرارداد منظور نہ کی، تو 30 دن کے اندر ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ ہو جائیں گی۔