سیکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل نے یو اے ای سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا

سیکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیل نے یو اے ای سے سفارتی عملہ واپس بلا لیا

ویب ڈیسک: حالیہ سیکیورٹی خدشات کے باعث اسرائیلی حکومت نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے اپنے سفارتی مشن کے بیشتر عملے کو فوری طور پر واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

اس اقدام کے ساتھ ہی اسرائیل کی نیشنل سیکیورٹی کونسل (این ایس سی) نے یو اے ای میں مقیم اسرائیلی شہریوں کے لیے سفری انتباہ کو مزید سخت کر دیا ہے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، این ایس سی نے کہا ہے کہ ایرانی حمایت یافتہ گروپ بشمول حماس، حزب اللہ اور دیگر عالمی جہادی تنظیمیں اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ خاص طور پر یہودی تعطیلات اور شبات کے دوران یو اے ای میں مقیم اسرائیلی اور یہودی شہریوں پر ممکنہ حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ واپس بلائے گئے عملے میں اسرائیل کے یو اے ای میں تعینات سفیر یوسی شیلی بھی شامل ہیں۔ سرکاری نشریاتی ادارے ’کان‘ کے مطابق، ان پر بدانتظامی کے الزامات لگنے کے بعد ان کی برطرفی کا امکان بھی پیدا ہوگیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کو ایران کے ممکنہ انتقامی حملوں اور غزہ میں جاری انسانی بحران پر عالمی دباؤ کا سامنا ہے۔ نومبر میں یو اے ای میں ایک اسرائیلی-مولدووی ربی کے قتل اور اس کے بعد مارچ میں تین افراد کو سزائے موت سنائے جانے کے واقعات نے بھی صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔یاد رہے کہ 2020 میں ابراہام معاہدے کے تحت یو اے ای اور اسرائیل نے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے، جس کے بعد اسرائیلیوں اور یہودی برادری کی امارات میں آمدورفت میں اضافہ ہوا تھا۔ تاہم حالیہ سیکیورٹی خدشات نے دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
 

 
Ask ChatGPT