ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے پر سپریم کورٹ سے آئینی جائزے کی درخواست

ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے پر سپریم کورٹ سے آئینی جائزے کی درخواست

امریکی شہریت کے بنیادی حق اور آئینی حدود کے حوالے سے ایک اہم قانونی تنازع کی عکاسی کرتی ہے۔

 سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ سنبھالنے کے دن ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا، جس کے ذریعے امریکی پیدائشی شہریت کے حق کو محدود کرنے کی کوشش کی گئی۔

صدر ٹرمپ کا حکم نامہ:

حکم نامے کے تحت امریکی وفاقی ایجنسیز کو ہدایت دی گئی کہ وہ امریکا میں پیدا ہونے والے بچوں کی شہریت تسلیم نہ کریں، اگر ان کے والدین میں سے کوئی بھی امریکی شہری یا گرین کارڈ ہولڈر نہ ہو۔یہ اقدام امریکی آئین کے چودھویں ترمیم کے پیدائشی شہریت کے حق کے اصول کے خلاف ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سپریم کورٹ میں درخواست:

ٹرمپ انتظامیہ نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس صدارتی حکم نامے کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے۔عدالت فیصلہ کرے گی کہ آیا صدر کا یہ اقدام آئین کے دائرہ اختیار میں آتا ہے یا نہیں۔
قانونی اور سیاسی اثرات:

اگر حکم نامہ برقرار رہتا ہے تو یہ لاکھوں بچوں کی پیدائشی شہریت پر اثر ڈال سکتا ہے۔اس معاملے پر آئندہ مہینوں میں وسیع قانونی اور سیاسی بحث متوقع ہے، کیونکہ یہ امریکی شہریت اور شہری حقوق کے بنیادی اصولوں سے جڑا ہوا ہے۔