فرزانہ اقبال
پاکستان میں حالیہ سیلاب نے معیشت پر گہرے اور دور رس اثرات ڈالے ہیں جنہیں نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ یہ آفات صرف ایک قدرتی المیہ نہیں بلکہ پورے معاشی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں۔ جب بارشوں کے ریلے اور دریا کے بپھرے ہوئے پانی بستیاں، کھیت اور سڑکیں بہا لے جاتے ہیں تو نقصان صرف گھروں اور کھڑی فصلوں کا نہیں ہوتا بلکہ پورا نظام متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک زراعت پر ہے۔ اس لیے سیلاب کا سب سے پہلا اور فوری اثر زرعی شعبے پر پڑتا ہے۔ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، کپاس، گندم، چاول، گنا اور سبزیوں کی پیداوار بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ کسانوں کی سال بھر کی محنت ضائع ہو جاتی ہے اور خوراک کی قلت پیدا ہو جاتی ہے۔ خوراک کی قلت قیمتوں میں اضافہ لاتی ہے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔سیلاب سے فصلوں کی تباہی کا مطلب یہ بھی ہے کہ زراعت سے جڑی دیگر صنعتیں مثلاً ٹیکسٹائل، شوگر انڈسٹری اور فوڈ پروسیسنگ براہِ راست متاثر ہوتی ہیں۔ پاکستان کی برآمدات میں سب سے زیادہ حصہ ٹیکسٹائل کا ہے جو کپاس کی پیداوار پر منحصر ہے۔ کپاس کے کھیت جب پانی میں ڈوب جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں نہ صرف مقامی صنعت متاثر ہوتی ہے بلکہ بیرون ملک برآمدات بھی کم ہو جاتی ہیں۔ برآمدات کم ہونے سے زرِ مبادلہ کے ذخائر پر دباو? بڑھتا ہے اور تجارتی خسارہ مزید وسیع ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روپے کی قدر میں کمی آتی ہے اور درآمدی اشیاء مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو سیلاب کے بعد طویل عرصے تک معیشت کو دباو میں رکھتا ہے۔سیلاب کا دوسرا بڑا اثر انفراسٹرکچر پر ہوتا ہے۔ سڑکیں، پل، ریل کی پٹڑیاں اور بجلی کے نظام کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ یہ وہ بنیادی ڈھانچے ہیں جو معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب یہ تباہ ہو جاتے ہیں تو نہ صرف اشیاء کی ترسیل رک جاتی ہے بلکہ روزمرہ کی زندگی بھی مفلوج ہو جاتی ہے۔ کسان اپنی فصل منڈی تک نہیں پہنچا پاتے، صنعت کار اپنی مصنوعات بروقت خریدار تک نہیں بھیج سکتے اور مزدور اپنی مزدوری کے لیے شہروں تک رسائی حاصل نہیں کر پاتے۔ انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے اربوں روپے درکار ہوتے ہیں جو پہلے ہی کمزور معیشت پر مزید بوجھ بن جاتے ہیں۔مزید یہ کہ سیلاب سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو جاتے ہیں۔ بے گھر افراد کی بحالی کے لیے حکومت کو ہنگامی امدادی پیکج جاری کرنا پڑتا ہے، خیمہ بستیاں لگانی پڑتی ہیں، خوراک اور ادویات مہیا کرنی پڑتی ہیں۔ یہ تمام اخراجات حکومتی بجٹ پر غیر متوقع بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی قرضوں اور مالیاتی خسارے کے جال میں پھنسا ہوا ہے، ایسے میں سیلاب کے بعد فوری بحالی کے اقدامات بجٹ کے خسارے کو اور زیادہ بڑھا دیتے ہیں۔ اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ ترقیاتی منصوبے روک دیے جاتے ہیں اور حکومت زیادہ تر وسائل صرف متاثرہ علاقوں کی بحالی پر لگا دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار سست پڑ جاتی
ہے۔سیلاب کا ایک اور اہم پہلو روزگار پر اثر ہے۔ جب فصلیں تباہ ہوتی ہیں اور صنعتوں کو خام مال میسر نہیں آتا تو لاکھوں افراد بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ روزگار کے مواقع کم ہونے سے غربت بڑھتی ہے اور جرائم کی شرح میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ بے روزگار نوجوان شہروں کا رخ کرتے ہیں جس سے شہری مسائل میں اضافہ ہوتا ہے، کچی آبادیاں پھیلتی ہیں اور بنیادی سہولیات پر دباو بڑھتا ہے۔ یہ سب عوامل مجموعی طور پر سماجی اور معاشی بحران کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں۔پاکستان کی معیشت پہلے ہی مہنگائی، بیروزگاری اور بیرونی قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ ایسے میں جب سیلاب جیسی آفت آتی ہے تو معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ایک طویل اور کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک امداد ضرور فراہم کرتے ہیں لیکن یہ امداد زیادہ تر وقتی ریلیف تک محدود ہوتی ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت کو اس قابل بنایا جائے کہ وہ ایسے جھٹکوں کو برداشت کر سکے۔ اس کے لیے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر نکاسی آب کے نظام اور ڈیموں کی تعمیر ناگزیر ہے۔سیلاب کے بعد صحت کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ گندا پانی پھیلنے سے ہیضہ، ملیریا اور دیگر وبائی امراض پھیلتے ہیں۔ جب متاثرہ افراد بیمار پڑتے ہیں تو ایک طرف ان کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور دوسری طرف صحت کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بوجھ بھی مجموعی معیشت پر پڑتا ہے کیونکہ صحت مند افرادی قوت ہی کسی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتی ہے۔ بیمار اور کمزور آبادی پیداوار کے عمل میں بھرپور کردار ادا نہیں کر سکتی۔سیلاب سے تعلیمی نظام بھی متاثر ہوتا ہے۔ جب اسکول پانی میں بہہ جاتے ہیں یا خیمہ بستیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں تو لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ تعلیم کے اس خلا کا اثر آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے اور انسانی وسائل کی ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ انسانی وسائل کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر سیلاب کے باعث یہ سرمایہ ضائع ہو جائے تو طویل المدتی نقصان ناقابلِ تلافی ہوتا ہے۔ سیلاب سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی متاثر کرتا ہے۔ غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار اپنا سرمایہ لگانے سے کتراتے ہیں۔ مقامی سرمایہ کار جب نقصان اٹھاتے ہیں تو نئی سرمایہ کاری روک دیتے ہیں جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی غیر یقینی سیاسی اور ماحولیاتی حالات کو دیکھ کر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔۔سیلاب کے معاشی اثرات صرف ملکی سطح پر نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ پاکستان چاول اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کے ذریعے دنیا کی مارکیٹوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔ جب یہ شعبے متاثر ہوتے ہیں تو عالمی سپلائی چین میں بھی خلل پڑتا ہے۔ خاص طور پر چاول کی پیداوار متاثر ہونے سے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ جاتی ہیں جس کا اثر دیگر ممالک پر بھی پڑتا ہے۔ اس طرح یہ قدرتی آفات ایک مقامی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ بھی بن جاتی ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ طویل المدتی حکمت عملی تیار کرے تاکہ مستقبل میں ان نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔اگرچہ یہ چیلنج بڑا ہے لیکن اسے ایک موقع کے طور پر بھی لیا جا سکتا ہے۔ سیلاب کے بعد بحالی کا عمل اگر درست حکمت عملی کے ساتھ کیا جائے تو یہ معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔۔پاکستان کو اب یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مستقل خطرہ ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ان آفات کی شدت اور تسلسل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔ اگر آج موثر اقدامات نہ کیے گئے تو ہر آنے والا سیلاب معیشت کو مزید کمزور کرتا جائے گا اور ملک ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ضروری ہے کہ ہم فوری ریلیف کے بجائے طویل المدتی اصلاحات پر توجہ دیں تاکہ آنے والے وقت میں سیلاب کے اثرات کو کم کیا جا سکے اور معیشت کو
مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جا سکے۔