سموگ وجوہات، صحت پر اثرات اور حفاظتی تدابیر

مس لائبہ نذیر ڈاکٹر صبا ثناء￿ 

 
سموگ، جو کہ دھند اور آلودگی کا مجموعہ ہے، آج کے دور میں ایک سنجیدہ ماحولیاتی مسئلہ بن چکا ہے۔ سموگ ایک قسم کی فضائی آلودگی ہے جسے عموماً دھواں اور دھند کے مجموعے کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ "سموگ" کی اصطلاح سب سے پہلے 1950 کی دہائی میں لندن میں شدید فضائی آلودگی کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، جو نمی والی ہوا میں معلق ہوتی تھی۔سموگ کا سبب زیادہ تر صنعتوں سے نکلنے والا دھواں، تعمیراتی سرگرمیاں، آتش بازی، اور بھٹوں سے نکلنے والا دھواں، بجلی گھروں اور کوئلہ جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی ہے۔ یہ آلودگی موسم سرما میں خاص طور پر بڑھ جاتی ہے جب ہوا میں نمی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اور ہوا میں موجود آلودگی ذرات دھند میں مل کر سموگ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ سرد موسم میں ہوا کا درجہ حرارت کم ہونے سے آلودگی کے ذرات اور دھند زمین کے قریب رہتے ہیں جو ہوا میں معلق رہنے کی بجائے نیچے ٹھہر جاتے ہیں، جس میں اوپر کی ہوا نیچے کی ہوا سے گرم ہوتی ہے اور نیچے کی سرد ہوا میں آلودگی کے ذرات اور نمی پھنس جاتی ہے۔ اس کے برعکس، گرمیوں میں ہوا گرم اور ہلکی ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھتی ہے، جس سے آلودگی کے ذرات بکھر جاتے ہیں اور سموگ کم نظر آتی ہے۔
۔ اس  عمل کو "ٹمپریچر انورڑن     (temperature inversion)کہا  جاتا ہے۔
سموگ کے انسانی صحت پر مضر اثرات بہت گہرے اور خطرناک ہیں۔ اس میں موجود زہریلے ذرات پھیپھڑوں کو متاثر کرتے ہیں، سانس کی بیماریوں جیسے دمہ، برونکائٹس، اور سانس میں دشواری پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ مزید براں  سموگ آنکھوں میں جلن اور جلد کی حساسیت کا باعث بھی بنتی ہے۔ دل کی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے بھی سموگ انتہائی نقصان دہ ہے، کیونکہ یہ خون میں آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیتی  ہے۔
   2018 میں جریدے ماحولیاتی تحقیق میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا اندازہ ہے کہ پاکستان میں فضائی آلودگی   صرف 2015 میں تقریباً 135,000 اموات کا سبب بنی۔ لاہور  ملک کے سب سے زیادہ آلودہ شہروں میں سے ایک ہے اور بحران کا ایک بڑا بوجھ اٹھاتا ہے۔2 نومبر 2024 کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) عالمی ادارہ صحت (WHO) کی مقرر کردہ محفوظ حد سے80 گنا سے زیادہ  تھی  ا?ج بھی صورتحال اس سے ملتی جلتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں سموگ کی وجہ سے لوگوں کی اوسط عمر کم ہو رہی ہے۔ خاص طور پر لاہور جیسے شہروں میں  جہاں  سموگ  کا مسئلہ بہت شدید ہے،  زراعت میں جلنے والے فضلے  ،فصلوں کی باقیات  جلانا لاہور میں فضائی آلودگی کا ایک اور اہم ذریعہ ہے۔     بھارت کی ریاستوں پنجاب اور ہریانہ   فصلوں کی باقیات کو جلا نا عام ہے  ،فصلی باقیات کو جلانے کے لاہور کی فضائی کیفیت پر پڑنے والے مخصوص اثرات کا اندازہ لگانا مشکل ہے، لیکن یہ بلاشبہ دھند کی مسئلے میں ایک بڑا شریک ہیتاہم، یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ پاکستان میں خود بھی فضائی آلودگی کے متعدد ذرائع موجود ہیں
لاہور کی فضائی آلودگی میں گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں ایک بڑا سبب ہیں لاہور میں45لاکھ موٹر سائیکلیں، 15لاکھ گاڑیاں اور بڑی تعداد میں رکشے فضاء￿  میں زہریلی گیسوں کا اخراج کر رہے ہیں۔۔ 2023ء￿  کی لاہور کی شعبہ وار اخراج انوینٹری کے مطابق   ٹرانسپورٹ 83 فیصد ا?لودگی کی  ذمہ دار ہے۔ گاڑیوں، خاص طور پر دو پہیوں والی گاڑیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد  اور ان سے نکلنے والا زہریلا دھواں  فضائی کیفیت کو نمایاں طور پر خراب کر رہے ہیں چنانچہ سموگ کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کچھ حفاظتی تدابیر اپنانی ضروری ہیں۔ باہر جانے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح کے اوقات میں جب سموگ کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔ گھر کے اندر صاف ہوا کو برقرار رکھنے کے لیے ایئر پیوریفائر کا استعمال کریں،زیادہ جسمانی سرگرمیوں سے گریز کریں،زیادہ پانی پئیں،صحت مند غذا کھائیں تاکہ قوت مدافعت مضبوط ہو۔ سب سے اہم اقدام ماسک کا استعمال ہے۔ این 95 یا کے این 95 ماسک سموگ کے مضر ذرات کو روکنے میں مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہ ماسک خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے ہیں تاکہ ہوا میں موجود PM2.5 اور PM10 ذرات کو ناک میں داخل ہونے سے روکیں اور سانس کی بیماریوں سے بچاؤ میں مدد کریں۔فضائی ذرات (Particulate Matter) دراصل ہوا میں موجود چھوٹے چھوٹے ٹھوس ذرات ہوتے ہیں جو مختلف ذرائع سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان ذرات کا سائز بہت چھوٹا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ہوا میں معلق رہتے ہیں اور سانس کے ساتھ جسم میں داخل ہو جاتے ہیں۔پی ایم 10   ذرات دس مائکرون یا اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ وہ دھول، مٹی، اور صنعتی عملوں سے پیدا ہوتے ہیں۔پی ایم 2.5 ذرات دو اعشار مائکرون یا اس سے چھوٹے ہوتے ہیں۔ وہ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں کیونکہ وہ گہرے پھیپھڑوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ وہ گاڑیوں کے اخراج، صنعتی عملوں، اور جلنے والے ایندھن سے پیدا ہوتے ہیں۔سرجیکل ماسک دھند کے خلاف زیادہ موثر نہیں ہوتے کیونکہ ان میں موجود فلٹر چھوٹے ذرات کو روکنے کے لیے کافی موثر نہیں ہوتے۔ دھند میں موجود آلودگی کے ذرات بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور سرجیکل ماسک انہیں روکنے میں ناکام رہتے ہیں۔ این 95 یاکے این 95ماسک میں ایک خاص قسم کا فلٹر ہوتا ہے جو ہوا میں موجود چھوٹے ذرات کو روکتا ہے۔ یہ فلٹر بہت چھوٹے سوراخوں سے بنا ہوتا ہے جو صرف ہوا کو گزرنے دیتے ہیں اور ہوا میں موجود دھول، آلودگی اور وائرس جیسے چھوٹے ذرات کو روک لیتے ہیں۔ اس طرح جب  کے این 95 ماسک پہنتے ہیں تو آپ صاف اور صحت مند ہوا سانس لیتے ہیں۔
 دھند کو کم کرنے کے لیے کئی اقدامات کی ضرورت ہے ، حکومت کے ساتھ شہریوں کو  بھہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 
گاڑیوں کی باقاعدگی سے ٹیوننگ اور دیکھ بھال   کرنا چاہئے اس سے  دھواں کم ہو سکتا ہے۔ عوامی نقل و حمل کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔ صاف اور معیاری ایندھن کا استعمال کرکے گاڑیوں کے اخراج کو کم کیا جا سکتا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے کر فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
·     صنعتی یونٹس پر سخت نگرانی اور ان کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت قوانین نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔ صنعتی یونٹس کو صاف ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
·گھروں میں لکڑی اور کوئلے کی بجائے صحت مند ایندھن جیسے سی این جی یا ایل پی جی کا استعمال کرنا چاہیے۔
 الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دے کر فضائی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے۔
زیادہ سے زیادہ درخت لگانے سے فضائی آلودگی کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
کسانوں کو فصلیں جلانے کے متبادل طریقے اختیار کرنے کے لیے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔
عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے آگاہی مہمات چلائی جانی چاہئیں۔
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو بھی اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور سخت اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ دھند کے مسئلے کو کنٹرول کیا جا سکے۔