متحدہ میں تنظیمی، پارلیمانی سطح پر اختلافات شدت اختیار کرگئے

بعض رہنماؤں نے مرکز جانا چھوڑ دیا، ایک سال سے مرکزی کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا
لوگوں کے کام نہیں کرینگے تو کارکنان کیساتھ بہادرآباد آکر بیٹھ جاؤنگا،انیس قائم خانی
ارکان اسمبلی علاقوں میں جائیں، یہ نہیں چلے گا چند لوگ آئیں تفریح کریں ،خطاب
کراچی (خصوصی رپورٹ) ایم کیوایم میں تنظیمی اور پارلیمانی سطح پر اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور مرکزی قیادت مختلف معاملات پرکھل کر آمنے سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں نے بہادر آباد مرکز جانا بھی چھوڑ دیا ہے، مرکزی رہنما انیس قائم خانی آج کل مختلف علاقوں کا دورہ اور کارکنان سے خطاب کر رہے ہیں۔ جمعہ کو انہوں نے رنچھوڑ لائن کا دورہ کر کے کارکنان سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ شہر کی حالت اس وقت خراب ہے، 22 ایم این اے اور 37 ایم پی اے دے دئیے ہیں لیکن مسائل حل نہیں ہو رہے، ارکان اسمبلی بڑی گاڑیوں میں گھومنے اور گھروں میں بیٹھنے کے بجائے علاقوں میں جائیں، لوگوں کے کام نہیں کریں گے تو ہزاروں کارکنان کے ساتھ آکر وہ بہادر آباد بیٹھ جائیں گے،یہ نہیں چلے گا کہ چند لوگ آئیں تفریح کریں اور چلے جائیں، کارکنوں کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی تو تمام کارکنوں کو بہادر آباد کھڑا کردیں گے۔ اپنے خطاب میں ان کا مزید کہنا تھا کہ لاپتا ساتھیوں کی بازیابی اور اسیر کارکنان کی واپسی کیلئے بھرپور مالی و قانونی مدد فراہم کی جائے جبکہ کراچی حیدر آباد سمیت شہری سندھ کے مسائل کو حل کرانے کیلئے عوامی تحریک کا آغاز کیا جائے، جس میں پانی ، گیس ، بجلی کے مسائل سڑکوں ، پارکس ، اسکولوں اور اسپتالوں کی تباہی پر گلی گلی محلے محلے احتجاج کیا جائے۔ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم مرکزی کمیٹی کا اجلاس ایک سال سے منعقد نہیں ہوسکا ہے جبکہ ہم خیال رہنمائوں اور کارکنان کے فیصلہ سازی امور سے متعلق تحفظات بھی ہیں۔ ایم کیوایم رہنمائوں میں دوریوں کے سبب مرکزی کمیٹی کیمتعدد ارکان سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لیرہے ہیں۔ ایم کیو ایم میں اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے جب فیڈرل بی ایریا میں کارکنان کی بڑی تعداد نے قیادت سے شکایات کے انبار لگا دئیے تھے۔