سرحد، ضمیر اور سیاستِ عہد کا المیہ

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
تاریخی طورپرڈیورنڈلائن کاوجوددستاویزی طورپرثابت ہے،مگراس کی سیاسی اورسماجی قبولیت متنازع رہی ہے۔موجودہ منظرنامے میں تین چیزیں خاص طورپرخطرناک ہیں:
(1)ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کی افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں؛  
(2)طالبان انتظامی یکجہتی کا فقدان اوراندرونی گروہی اختلافات(جن میں حقانی نیٹ ورک کامضبوط اثر شامل ہے؛اور 
(3)سیزفائریامعاہدات کاناقص نفاذجوکشیدگی کونئے مراحل میں داخل کرسکتاہے۔ان عوامل کے امتزاج سے خطے میں تشدد،بین الاقوامی مداخلت اوربڑے پیمانے پرانسانی وسیاسی نقصان کاخطرہ درمیانہ تازیادہ درجے تک بڑھ جاتاہے۔ 
دوحہ کی محفل نے ابتدامیں پندرہ گھنٹے کاصبرآزماتحفہ پیش کیا،ایک طویل انتظارجس میں ہرشخص کاحوصلہ اورہرمؤقف کی فضاآزمائش میں مبتلارہی۔میزبان قطرنے روایتی سفارتی مہارت سے دونوں وفودکوالگ الگ سمجھایا،اس انتظارکے بعدجب براہِ راست مکالمہ شروع ہواتو محسوس ہواکہ الفاظ کے بیچ میں ایک نئی شفافیت کی بجائے شقاوت نے جنم لے لیاہے۔ملاعمرکے فرزندملایعقوب نے ابتدامیں بلندلہجہ اختیارکیا؛ایسی آوازجوبسااوقات درخت کی شاخ کی طرح زورلگاتی ہے مگرجڑیں کمزور ہوں توجھٹکے میں ٹوٹ پڑتی ہیں۔ پاکستان پردباڈالنے کی دھمکی کاانداز،جواس امیدپرمبنی تھاکہ خوف سے پالیسی بدل جائے گی،بطورِحربہ ناکارہ ثابت ہواپاکستانی وفدنے خاموش وقارسے یہ پیغام دیا:ہم واپس لوٹ سکتے ہیں،آپ دوسراراستہ اپنالیجیے۔ یہ مؤقف دراصل ایک ایسے اخلاقی اورعملی توازن کی عکاسی کرتاہے جس نے ملاؤں کے جغرافئے کے نیچے سے زمین کھینچ دی۔
طالبان نے معاملات کواپنے ہاتھ سے رخصت ہوتے دیکھاتوفوری طورپرملائشیاکے وزیراعظم کومددکیلئے پکارلیا۔کبھی کبھار مذاکرات میں تیسرے فریق کولانابھی مفیدہوتاہے؛ ملائیشیاکے وزیراعظم کودرمیان لانے کی کوشش اسی شِق پرمبنی تھی۔ان کی خواہش تھی کہ معاملہ جنگ بندی اورافغان ٹرانزٹ کی بحالی تک محدودرکھاجائے،اورپیچیدہ سوالات مثلاٹی ٹی پی یاسرحدی دراندازی کوپاکستان کااندرونی معاملہ قراردے کرمعاملے سے نکالاجائے۔یہ وہ لمحہ تھاجب مذاکرات ایک حد بندی کی جانب دھکیلے گئے مگریہ حدود اسی وقت ناقابلِ قبول کہہ کرردکردیئے گئے کہ یہ اندرونی مسائل سے فرار،کوئی حل نہیں۔
شہبازشریف اورپاکستانی وفدنے یکسوئی سے اس دلیل پراصرارکیاکہ جنگ کی ابتداٹی ٹی پی اوربی ایل اے کی دراندازی سے ہوئی، اورجب تک یہ بنیادی سبب رفعِ دفع نہ ہوں، جنگ بندی کاموضوع قابلِ غورنہیں۔یہ مؤقف صرف ایک سفارتی دعویٰ نہیں بلکہ سرحدی حقِ خودداری اورقومی سکیورٹی کے ایک ضابطے کاعملی اظہارتھاجس کومیزبان سمیت میزپر سرجوڑکربیٹھے ہوئے دیگرتمام دوستوں نے جائزقراردے دیا ۔دلچسپ نکتہ یہ کہ میزپرہاری ہوئی بازی دیکھ کرملایعقوب،جودوروزقبل ڈیورنڈلائن کوتسلیم کرنے سے انکاری تھے، بالآخراس مقام پرپہنچے کہ’’ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی اورہم سرحدوں کااحترام کریں گے‘‘۔یہ تبدیلی صورتِ حال کی نرمیت بھی تھی اورممکنہ سیاسی بردباری کی غمازی بھی۔طے پایاکہ بات چیت کااگلا مرحلہ استنبول ترکی میں ہوگااوروہاں نئے نکات کوچھیڑیں گے۔
پاکستان کی چندمذہبی جماعتیں افغان طالبان کی طرف ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے اکساتی ہیں کہ پاکستان امریکاکاتابع ہے اوراسی وجہ سے افغانستان میں اس کے کردارپر سوال اٹھایاجاتاہے۔یہ مؤقف جذباتی بنیادپرمضبوط ہوسکتاہے،مگرجب ہم منطق اورتاریخ کے آئینہ میں دیکھتے ہیں توتضادات نمایاں ہوجاتے ہیں۔
دلِ پرہاتھ رکھ کراس کاجواب دیں:طالبان نے گزشتہ دہائی میں جس ملک میں وفاداری کادفترکھولا،وہاں امریکاکاسب سے بڑااڈا ’’العدید‘‘موجودہے،وہیں سے افغانستان کے مشن کوکنٹرول کیاجارہاتھا۔اگربرادرِاسلامی ملکیت کااصول سچ تھاتووہاں کی موجودگی پرطالبان کی خاموشی ایک سخت تضادپرمبنی ہے۔یہ معاملہ ایک اخلاقی آئینہ پیش کرتاہے جس میں غیرواضح عزائم اورمفادات کے پیچیدہ رنگ نظرآتے ہیں کہ قطرکی سرزمین پرافغانستان میں جارحیت کرنے والے ملک امریکاکے سب سے بڑے فضائی اڈے پرتوان کوکوئی
 اعتراض نہیں جہاں سے کئی مرتبہ افغانستان پرفضائی حملے بھی کئے گئے۔
ترکی،جونیٹوکارکن ہے اوربعض اوقات اس کے فوجی افغانستان میں متعین رہے،اب مذاکرات کااگلااسٹیج ہے اوردوحہ کے ساتھ ترکی بھی پاک افغان مذاکرات میں حصہ لے رہے ہیں۔حیرت انگیزطورپرنہ طالبان نے ترکی پرکافروں کے ساتھ دوستیکالطیف طنزکیا، نہ پاکستانی جماعتوں نے آج تک اردوان کے خلاف کڑوی زبان اختیارکی۔یہ صورتِ حال اس حقیقت کی گواہ ہے کہ علاقائی سیاست میں شکوک وشہبات اکثریک طرفہ نہیں بلکہ متوازن،اورکبھی کبھار معاملاتی ہوتے ہیں۔
نجانے کیوں مجھے تین دہائیاں قبل قندھارمیں امیرملاعمرکے وہ وعدے اوروہ الفاظ جومحض نوشتہ عہدنہیں بلکہ روحِ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،بے اختیاریادآرہے ہیں جوانہوں نے پاکستانی وفد کی موجودگی میں ایمان افروزخطاب میں کہے تھے:’’میرے پاکستانی بھائیو! ہم قیامت تک آپ کے احسانات نہیں بھولیں گے...جہاں آپ کاپسینہ گرے گا وہاں ہمارالہوگرے گا۔‘‘یہ تقریرایک دورکیاخلاقی سرٹیفکیٹ کی مانندتھی جس نے دوقوموں کے تعلق کوایک مقدس روایت کی حیثیت دی اورپاکستانی قوم آج تک اپنے اس بھائی کے الفاظ کواعتماد کے مضبوط قلعے کی طرح محفوظ رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔
آج کاسربراہ اعلی،ہیبت اللہ اخوندزادہ،جواس وقت محض18سالہ نوجوان تھا،یقیناان تالیفات اوربیانات کواپنے ضمیرکے کسی گوشے میں سما کررکھتاہوگا۔وہ داخلی چکاچونداور بیرونی تقاضوں کے بیچ جومحاسبات محسوس کرتاہوگا،وہ ان یادوں کی تپش سے متاثرہوسکتاہے مگریہ بھی دیکھناہوگاکہ سیاسی قیاس اورعملی تقاضے اکثراخلاقی وعدوں کوکس طرح تولتے ہیں اوران کایہ امتحان دنیاوآخرت کی کامیابی وناکامی کافیصلہ ثابت ہوسکتاہے۔یقینارات کے کسی پہلومیں ان کاضمیربھی ان سے یہ سوال توکرتاہوگالیکن کیاوہ اس کومطمئن کرپائیں ہیں؟
ملایعقوب اس تقابلِ ماضی وحال کازندہ چہرہ ہے؛جب اس وقت وہ پانچ سال کابچہ تھا،اس کے کانوں نے ممکنہ طورپراپنے والدکے اخلاقی عہدسنے تھے۔آج جب وہ خودحکومت کی نشست پرہے،سوال یہ ہے کہ کیاوہ ان وعدوں کوصادقانہ جواب دے سکتاہے یاوقت اوراختیارنے اسے مختلف راہ دکھائی ہے؟تاریخ آخری انصاف کرنے والی ہے،مگریہاں نیزان کیلئے بھی  انسانی ضمیرکاسوال بھی سرِ فہرست ہے اوریقیناوعدے کی میزسے اٹھ کرالجزیرہ ٹی وی پرانٹرویودیتے ہوئے کوئی خلش تومحسوس کی ہوگی۔
دوحہ کے وعدوں کے فورابعدالجزیرہ ٹی وی کی پوشیدہ ذمہ داری یاروشنی نے وہ لمحہ دوبارہ زندہ کیاگویاوعدے اورمفادات کی پیمائش میں کوئی دیرنہیں کی جاتی۔میڈیااکثروہ آئینہ ہوتا ہے جولمحہ حاضرکے عمل وعکس کوفوراعوام کے روبرورکھ دیتاہے؛اس صورت میں بھی یہی ہوااورتاریخ نے یہ کرداراپنے اندرمحفوظ کرلیاہے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں خوداس کامحاسبہ کریں گی۔
یہاں یہ امردلچسپی سے خالی نہیں ہوگاکہ سابق نائب صدرامراللہ صالح نے واضح طورپرلکھااورپوسٹ کیاکہ دوحہ مذاکرات میں طالبان کے پاس عملی طورپرانکاریاشروط لگانے کا آپشن نہیں تھا،اورپاکستان نے سفارتی طورپرطالبان کوتنہائی کاایک ایسادبادیاکہ عالمی سطح پریہ تاثرپیداہواکہ طالبان یاتو'فتنہ الخوارج'کی حمایت کررہے ہیں یاانہیں قابونہیں کر پاتے۔ 
افغان وزیرِدفاع(ملامحمدیعقوب)نے دوحہ معاہدے میں کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانیاں دیں،مگربعدازاں مختلف پلیٹ فارمز(الجزیرہ) پران کے بیانات نے تشویش پیدا کی کہ سٹیٹ کے اندر مختلف آوازیں موجودہیں۔اس نے بین الاضلاع اعتمادکی کمی کواجاگرکیا۔یقیناان کایہ رویہ اگلے مصالحتی دورمیں ان کیلئے ایک شدیدترین دباؤکی صورت میں ایک سوالیہ نشان بن کرمشکلات کاباعث بن سکتاہے۔
یہ گفت وشنیدایک محض سفارتی واقعہ نہیں؛یہ ایک آئینہ ہے جس میں خطے کے سیاسی اخلاقی،جغرافیائی مفادات،تاریخی یادیں اور ذاتی وعدے سب عکس اندازسے دکھائی دیتے ہیں ۔ آخرمیں یہ کہنابجاہوگاکہ مذاکرات کاحقیقی محاسب عوام اورتاریخ کرے گیجب الفاظ عمل میں بدلیں گے یاجب وعدے خاک میں ملیں گے۔اسی روزہوگاجب ہم اس باب کوبند 
کریں گے یانئی شروعات کااعلان کریں گے۔
تاریخ کی عدالت میں وعدے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں،اورقوموں کے ضمیران وعدوں کے محافظ ہوتے ہیں۔دوحہ کی کہانی ابھی ختم نہیں ہوئییہ امت کے مستقبل کے باب کادیباچہ ہے،جس کے حرف ہم سب کے عمل سے لکھے جائیں گے۔وقت کادریچہ کھل چکاہے؛اب یہ ہمارے اختیارمیں ہے کہ ہم اس میں صداقت کی روشنی ڈالیں یامنافقت کااندھیرا۔
 جب امت اپنے وعدوں پرقائم رہتی ہے تواللہ تعالی اس کے اعمال میں برکت عطاکرتاہے،اورجب وہ ان سے روگردانی کرتی ہے توتاریخ اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لیتی ہے۔ یہی پیغام دوحہ کے مذاکرات نے ایک بارپھرہم سب کے سامنے رکھاہے۔