سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ تحریرقصدِتحقیق اورقصدِ بیان کی ایک مشترکہ تلمیح ہے؛جس کامقصدمحض واقعات کاسرسری ذکرنہیں بلکہ ان کے پسِ منظر، معنوی امواج،اورتاریخی صدائیں ضبطِ نثری میں سموکر ایک جامع ادبی تصویرپیش کرناہے۔دوحہ مذاکرات ،طالبان رہنماؤں کے بیانات،اورپاکستانی قومی حساسیت کی صداکوایک فکری تناظرمیں کھول کررکھیں گے۔
جب قوموں کی تقدیرکے فیصلے تاریخ کے صحن میں لکھے جاتے ہیں توالفاظ نہیں،عہدبولتے ہیں۔یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب امت کا ضمیراپنی آزمائشوں سے گزرتاہے اورہر قول ، ہروعدہ ایک امانت بن جاتاہے۔دوحہ کی نشست بھی ایک ایساہی باب تھیجہاں ماضی کے زخم،حال کے سوال اورمستقبل کی امیدایک میزپرجمع ہوئے۔اسلامی اخوت کے پرچم تلے ہونے والی اس گفت وشنیدنے نہ صرف سیاسی حرارت کوجنم دیابلکہ امت کے فکری ارتعاش کوبھی عیاں کیا۔یہ داستان دراصل امتِ مسلمہ کے اتحاد،صداقت اوروعدہ وفاکی آزمائش کاوہ امتحان ہے جس میں تاریخ خودقاضی بن کرکھڑی ہے۔
پاکستان اورافغانستان کے درمیان واقع سرحد،جسے ڈیورنڈلائن کہاجاتاہے،جنوبی ایشیاکی سب سے اہم مگرمتنازع جغرافیائی حدہے۔ اس لائن کاقیام1893میں برطانوی حکومت اورافغانستان کے حکمران امیرعبدالرحمن خان کے درمیان ایک معاہدے کے تحت عمل میں آیا۔یہ سرحدنہ صرف دونوں ممالک کے باہمی تعلقات بلکہ خطے کی سیاست پربھی گہرے اثرات مرتب کرتی آئی ہے۔اس سرحد کی قانونی حیثیت،اس کے اطلاق اوراس کے نتیجے میں بننے والے سیاسی/نسلی تقسیم کے پسِ منظرپرافغانستان اورپاکستان کے درمیان دیرپاتنازعات رہے ہیں۔تاریخی کاغذات اوربین الاقوامی دستاویزات اس معاہدے کے وجودکوثابت کرتی ہیں،جبکہ افغانستان کی مختلف حکومتوں نے متعددادوارمیں اس کی قانونی/سیاسی حیثیت کوچیلنج کیاہے۔
انیسویں صدی کے اواخرمیں برطانوی ہندوستان اورروسی سلطنت کے درمیان وسطی ایشیامیں اثرورسوخ کی جنگ جاری تھی،جسے تاریخ میں گریٹ گیم کہاجاتاہے۔برطانیہ نے گریٹ گیم کے دوران افغانستان کوروس کے اثرسے دوررکھنے کیلئیایک بفراسٹیٹ کے طورپراستعمال کیا۔اس وقت افغانستان کی سرحدیں واضح نہیں تھیں،خاص طورپرمشرقی جانب برطانیہ کیلئے افغانستان ایک بفراسٹیٹ کی حیثیت رکھتاتھاتاکہ روسی پیش قدمی کوجنوبی ایشیاکی طرف روکاجاسکے۔
ڈیورنڈلائن دراصل پاکستان اورافغانستان کے درمیان وہ سرحدہے جو1893میں ایک معاہدے کے تحت قائم کی گئی تھی۔اسی تناظر میں سرمورٹیمرڈیورنڈ،جوبرطانوی خارجہ امور کے سیکرٹری برائے ہندوستان تھے،کابل پہنچے اورامیرعبدالرحمن خان کے ساتھ12 نومبر1893کوایک معاہدہ طے پایا۔اس معاہدے پرافغانستان کے امیرعبدالرحمن خان اور برطانوی حکومت کے نمائندے سر مورٹیمرڈیورنڈنے دستخط کیے۔اس معاہدے کے مطابق افغانستان اوربرطانوی ہندوستان کے درمیان ایک سرحدمقررکی گئی جوبعد میں ڈیورنڈلائن کہلائی۔اس سرحدکابنیادی مقصدبرطانوی ہندوستان اورافغانستان کے درمیان سیاسی وانتظامی حدودکاتعین کرناتھاتاکہ دونوں حکومتوں کے اثرورسوخ کے علاقوں میں وضاحت پیداہوسکے اورحدودطے کی جاسکیں۔
ڈیورنڈمعاہدہ12نومبر1893کوطے پانے والے معاہدے کی نوعیت اوردفعات بالاتفاق یہ طے پائیں:
٭دستاویزات،بشمول برطانوی اوربعدازاں امریکی سرکاری آرکائیوزمیں اس کے متن کاحوالہ موجودہے۔اس معاہدے کوبعدکی انگوٹھا بندیوں/معاہدات نے بطورحوالہ تسلیم کیا۔ معاہدے کے بعدسے یہ لائن تقریبا2,6002,640کلومیٹر(1,6001,640میل)تک دکھائی جاتی ہے ،روایتی ماخذ اس فاصلے،جغرافیائی حدوداورلمبائی کی حدود کے بارے میں یکساں ہیں۔
٭سرحد(ڈیورنڈلائن)کے دونوں طرف کے علاقوں کی سیاسی اورانتظامی حدودمتعین کی گئیں۔اس کے تحت افغانستان اوربرطانوی ہندوستان کے درمیان ایک واضح سرحدقائم کی گئی۔اس سرحد کے مشرقی حصے میں واقع قبائلی علاقے برطانوی عملداری میں شامل کیے گئے۔افغانستان نے تسلیم کیاکہ خط کے مشرق میں واقع قبائلی علاقے برطانوی عمل داری میں آئیں گے۔
٭معاہدے نے پشتون قبائل کوزمینی طورپرتقسیم کیاقبائلی رابطے سچ مچ معمول کے مطابق رہے مگرطاقت اورسرحدی کنٹرول میں تبدیلی نے معاشرتی اورسیاسی تقسیم کو مستقل نوعیت دی۔(تاریخی تجزیے اورعلاقائی مطالعات دستیاب ہیں)۔
٭بین الاقوامی شواہدبرصدور کے مطابق راولپنڈی/انگلش افغان معاہدات(1919اور1921حوالہ جات)میں ڈیورنڈلائن کے وجودکاحوالہ رہا،جوتاریخی طورپراس لائن کے ریکارڈڈ وجودکی تائیدکرتاہے۔
٭معاہدہ کو’’مستقل سرحد‘‘کے طورپرتسلیم کیاگیا۔
٭امیرعبدالرحمن خان کوبرطانیہ کی جانب سے مالی امداداورسیاسی حمایت کی یقین دہانی کرائی گئی اور اس پرعملدرآمدبھی ہوا۔
ڈیورنڈلائن موجودہ پاکستان کے شمال سے لے کرجنوب تک پھیلی ہوئی ہے اس میں خیبرپختونخوا،قبائلی اضلاع،اوربلوچستان کے کچھ حصے شامل ہیں۔یہ چترال،دیر،باجوڑ،مہمند ،خیبر ، وزیرستان،اوربلوچستان کے کچھ حصوں سے گزرتی ہے۔یہ سرحد34شمالی عرض البلدکے قریب سے گزرکربلوچستان تک جاتی ہے۔
پاکستان کامقف ہے کہ1893کامعاہدہ ایک ریاستی ڈیورنڈلائن ایک بین الاقوامی طورپرتسلیم شدہ قانوی سرحدہے جودوخودمختار ریاستوں کے درمیان طے پایا،اس لیے 1947 کے بعدپاکستان نے برطانوی ہندوستان کے قانونی وارث کی حیثیت سے اس معاہدے کو برقراررکھا،اس لیے یہ بین الاقوامی قانون کے مطابق آج بھی نافذالعمل ہے۔مزید برآں،1919میں ہونے والے راولپنڈی معاہدے کے ذریعے جب افغانستان نے برطانیہ کے ساتھ امن قائم کیا،تواس نے بالواسطہ طورپرڈیورنڈلائن کی حیثیت کوتسلیم کیا۔
پاکستان نے1947میں آزادی حاصل کرنے کے بعدبرطانوی ہندوستان کاقانونی جانشین ہونے کے ناتے اس معاہدے کی ذمہ داریاں اورحقوق اپنے ذمے لیے۔اس بنیاد پرپاکستان کامؤقف ہے کہ یہ سرحدبین الاقوامی سطح پرتسلیم شدہ ہے اورکسی ازسرِنومعاہدے کی ضرورت نہیں۔
دوسری طرف افغانستان یہ مؤقف اختیارکرتاہے کہ ڈیورنڈلائن نے پشتون قوم کودوحصوں میں تقسیم کردیاایک حصہ افغانستان میں اوردوسراپاکستان میں۔یہی تقسیم بعدازاں پشتون قوم پرستی کی بنیادبنی۔اسی وجہ سے پشتون قوم پرست سیاست(جیسے خدائی خدمتگارتحریک یابعدمیں بعض افغان حکومتیں)ہمیشہ اس سرحدکومتنازع قراردیتی رہیں۔تاہم،عملی طورپرسرحددونوں ممالک کے درمیان ڈی فیکٹوحدفاصل کے طورپرکام کررہی ہے۔
پاکستان سرحدپرباڑلگاچکاہے تاکہ سیکیورٹی اوراسمگلنگ کے مسائل پرقابوپایاجاسکے۔طالبان حکومت(2021کے بعد)باضابطہ طور پرڈیورنڈلائن کوتسلیم نہیں کرتی،لیکن عملی طورپر کئی مقامات پرپاکستانی کنٹرول کوقبول کرتی ہے اورباڑلگاتے ہوئے بھی طالبان نے اس پرکوئی اعتراض نہیں کیا۔دوسری جانب پاکستان اسے اپنی بین الاقوامی سرحدقراردیتاہے اوراس کے تحفظ کوقومی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتاہے۔سرحدی جھڑپیں وقتافوقتاہوتی رہتی ہیں،خصوصاچمن اورطورخم کے علاقوں میں،لیکن مجموعی طورپریہ لائن دونوں ممالک کے درمیان حقیقتِ حال کے طورپر قائم ہے۔
ڈیورنڈلائن نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے وسطی ایشیاکے جغرافیائی توازن میں اہم مقام رکھتی ہے۔اس کاتاریخی وجودایک ایسے دورکی یادگارہے جب سامراجی قوتیں اپنی جغرافیائی حدودقائم کررہی تھیں۔ بین الاقوامی قانون،تاریخی شواہداورعملی حقیقت کے مطابق ڈیورنڈلائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان مستقل بین الاقوامی سرحدکی حیثیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے طالبان کی موجودہ رجیم کاپاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ایما پرفتنہ الخوارج اورفتنہ الہندکی سرکوبی کی بجائے انہیں اپنے محسن پاکستان کے خلاف استعمال کرکے بلیک میلنگ کیلئے استعمال کابھانڈہ بیچ بازارمیں پھوٹ گیاہے اورپہلی مرتبہ طالبان نے باقاعدہ پاکستان کے خلاف لشکرکشی کی فاش اور فحش غلطی کرکے خود اپنے اقتدارکے وجودکوشدیدترین زخمی کرلیاہے۔
یادرہے کہ اکتوبر2025میں دوطرفہ جھڑپیں شدت اختیارکرگئیں،جن کے بعددوحہ اورترکی کی ثالثی میں فوری سیز فائرپربات چیت ہوئی جہاں اگلے ماہ استنبول میں ہونے والی ملاقات تک جنگ بندی کااعلان کیاگیاہے جس میں پاکستان اوردیگرتمام اسلامی ملکوں کی طرف سے اس مطالبہ کوتسلیم کیاگیاکہ افغانستان اپنی سرزمین کودہشتگردی کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گایاد رہے کہ اس سے قبل ماسکو فارمیٹ کانفرنس میں بھی خطے کے تمام اہم ممالک کامشترکہ اعلامیہ جاری ہواتھاجس میں افغانستان کو دہشتگردوں کی سہولت کاری کوبندکرنے کاکہاگیاتھااورطالبان کے وزیرخارجہ ملامتقی نے اس کی حامی بھی بھری تھی لیکن بدقسمتی سے اس معاہدہ کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ پاکستان پرچار مختلف علاقوں سے فتنہ الخوارج اورفتنہ ہندنے دہشتگردی کے حملے کئے اورافغانستان سے آئے ہوئے ددہشتگردبھاری مقدارمیں اپنی لاشیں اوراسلحہ چھوڑکرفرارہوگئے۔
اکتوبر2025میں دونوں ممالک نے قطر/ترکی میں ثالثی کے ذریعے عارضی سیزفائراورفالواپ مذاکرات طے کیے تاہم نفاذکا انحصارطالبان کی جانب سے افغان سرزمین پرموجود غیرملکی/عسکری گروہوں کے کنٹرول پرہے۔متعددرپورٹس نے واضح کیاکہ پاکستان کامطالبہ یہی ہے کہ افغان طالبان اپنی سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشتگرد تنظیموں’’ٹی ٹی پی‘‘اور’’بی ایل اے"سمیت دیگرگروپوں کواپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ (جاری ہے)