اسموگ اور فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسائل کے حوالے سے ہے، جس میں پنجاب کے مختلف شہروں خصوصاً لاہور میں اسموگ کی شدت اور اس کے اثرات، تعلیمی اداروں کی صورتحال، اور حکومتی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔
اسموگ الرٹ اور موسم کی صورتحال: محکمہ موسمیات نے پنجاب کے مختلف شہروں میں بڑھتی ہوئی اسموگ کے حوالے سے تشویشناک الرٹ جاری کیا ہے۔ خشک موسم کے باعث اسموگ کی شدت میں اضافے کا خدشہ ہے، جس سے صحت سے متعلق مسائل جیسے سانس کی نزلہ، کھانسی اور آنکھوں کی جلن میں اضافہ ہو سکتا ہے۔تعلیمی اداروں کی چھٹیاں: گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی قبل از وقت تعلیمی اداروں کی چھٹیاں دینے کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی ہیں، مگر حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت کوئی بھی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں اسکول بند کرنے یا چھٹیاں بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔سکولوں کے اوقات کار: موسم سرما کے لیے سکولوں کے اوقات کار جاری کیے گئے ہیں۔ سکول صبح 8:45 بجے شروع ہوں گے اور دوپہر 1:30 بجے ختم ہوں گے، جبکہ جمعہ کو ساڑھے 12 بجے چھٹی ہوگی۔ دوسری شفٹ سہ پہر 2 بجے سے 4 بجے تک ہوگی۔فضائی آلودگی اور اس کی شدت: لاہور کی فضائی معیار انتہائی خراب ہو گئی ہے، اے کیو آئی 312 تک جا پہنچی ہے، جو کہ زہریلی سطح قرار دی جاتی ہے۔ دیگر شہروں جیسے فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور بہاولپور میں بھی اے کیو آئی بلند ہے۔ فضائی آلودگی میں اضافہ فصلوں کی باقیات کے جلانے اور فصلوں کے باقیات سے ہوا میں ذرات شامل ہونے کے سبب ہوا ہے۔حکومتی اقدامات: انسدادِ اسموگ کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ لاہور، شیخوپورہ، قصور اور گوجرانوالہ میں اینٹی سموگ اسکواڈز فعال کیے گئے ہیں۔ تمام تعلیمی اداروں میں باہر کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکومتی موقف:
حکومتِ پنجاب اور محکمہ تعلیم کا کہنا ہے کہ سردیوں کی چھٹیاں قبل از وقت دینے کی خبریں بے بنیاد ہیں اور اس حوالے سے کوئی فیصلہ زیر غور نہیں ہے۔ ابھی موسم گرم ہے اور سردی کے آثار نظر نہیں آ رہے۔