روزانہ داخل ہونے والے 600 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا
خیمے، کمبل اور سرد موسم کیلئے ضروری سامان بے گھر فلسطینی خاندانوں کے لیے بھجوایا جا رہا تھا
غزہ (آئی این پی )اسرائیل نے انسانی ہمدردی کی تمام اپیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے غزہ میں چکن اور گوشت کی فراہمی کو قیدیوں کی لاشوں کی واپسی سے مشروط کر دیا ۔عرب میڈیا کے مطابق گزشتہ روز بھی اسرائیلی فورسز نے معاہدے کے تحت روزانہ داخل ہونے والے 600 امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔یہ معاہدہ مصر، قطر اور امریکا کی ثالثی سے 10 اکتوبر سے نافذ العمل ہے، تاہم رپورٹوں کے مطابق اسرائیل مسلسل اس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مرغی، گوشت اور دیگر بنیادی غذائی اشیا کے داخلے پر اب بھی مکمل پابندی برقرار ہے، جبکہ صرف ڈبہ بند خوراک اور نوڈلز کی محدود مقدار میں اجازت دی جا رہی ہے۔اقوامِ متحدہ کی ایجنسی انروا نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل نے ان کے امدادی قافلے کو بھی غزہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ادارے کے مطابق ان ٹرکوں میں خیمے، کمبل اور سرد موسم کیلئے ضروری سامان موجود تھا جو بے گھر فلسطینی خاندانوں کے لیے بھجوایا جا رہا تھا۔انروا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ سرد موسم کے قریب آتے ہی لاکھوں بے گھر افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے، لیکن اسرائیل کی رکاوٹوں کے باعث اردن اور مصر میں موجود گوداموں سے سامان غزہ نہیں پہنچایا جا سکا۔