ہم اسرائیل کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا جواز نہیں دیں گے،اسرائیلی قبضہ اور جارحیت ختم ہونے تک ہتھیارنہیں ڈالیں گے
غزہ (آئی این پی )اسرائیل نے ایک بار پھر غزہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وسطی غزہ کے علاقے نصیرات میں فضائی حملہ کر دیا۔اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تازہ حملوں میں ایک فلسطینی شہید اور 6زخمی ہوگئے صیہونی فوج کا دعوی ہے کہ اس نے حملے میں فلسطینی تنظیم کے رکن کو نشانہ بنایا۔فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے کم از کم 6 فلسطینی زخمی ہوئے ۔خیال رہے کہ غزہ امن معاہدے کے بعد سے اب تک 93 فلسطینی شہید اور 320 زخمی ہوچکے ہیں، فلسطینی محکمہ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 68 ہزار 519 ہوگئی جبکہ ایک لاکھ 70 ہزار 382 زخمی ہوئے ہیں۔ادھر اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کم از کم 15 لاکھ افراد کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ اپنے تباہ شدہ گھروں کو لوٹنے والے فلسطینی صرف ملبے کے ڈھیر دیکھ رہے ہیں اور خوراک و پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ادھر غیر قانونی اسرائیلی آباد کاروں نے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی گھروں، کمیونٹیوں اور زرعی زمینوں پر حملے کئے ہیں۔ دریں اثنا سربراہ حماس خلیل الحیہ نے کہا امریکی صدر ہر روز کہہ رہے ہیں کہ جنگ ختم ہوگئی،اب ہم اسرائیل کو جنگ دوبارہ شروع کرنے کا جواز نہیں دیں گے،28 میں سے 17 یرغمالیوں کی لاشیں دے چکے،باقی کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔حماس کیسربراہ خلیل الحیہ نے امریکی صدر کے بیان پرجواب میں کہا اسرائیلی انخلا اورجارحیت کے خاتمے تک ہتھیارنہیں ڈالیں گے،اسرائیلی انخلا کے بعد اسلحہ ریاست کے حوالے کردیں گے،ان کا کہناتھاکہ غزہ میں نئی انتظامیہ کیلئے کسی بھی قومی شخصیت پراعتراض نہیں۔انھوں نے مزید کہاکہ اقوام متحدہ کی فورسز تعیناتی پرحماس اورالفتح میں اتفاق ہوچکا،معاہدے کی خلاف ورزیاں امن سمجھوتے کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔