نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی

نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی

سپریم کورٹ کے جج جسٹس علی باقر نجفی نے ظاہر جعفر کی سزائے موت کے خلاف اپیل مسترد ہونے کے کیس میں 7 صفحات پر مشتمل اضافی نوٹ جاری کیا ہے۔

 نوٹ میں انہوں نے کہا کہ اکثریتی فیصلے سے اتفاق کرتا ہوں مگر کچھ اضافی وجوہات بھی ہیں، اور ظاہر جعفر کے خلاف تمام شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے اس بات پر زور دیا کہ ’لیونگ ریلیشن‘ کا تصور معاشرے کے لیے نہایت خطرناک ہے، کیونکہ یہ معاشرتی بگاڑ اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انہوں نے نوجوان نسل کو اس واقعہ سے سبق سیکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ ایسے تعلقات معاشرے اور شریعت دونوں کے خلاف ہیں، اور خدا کے خلاف بغاوت تصور کیے جاتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ نور مقدم کا واقعہ معاشرے میں پھیلنے والی برائی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

عدالت نے ظاہر جعفر کی سزائے موت برقرار رکھی اور ریپ کیس میں سزا عمر قید میں تبدیل کی، جبکہ دیگر مقدمات میں سزا کی کمزوری اور معاوضے کا حکم بھی برقرار رکھا۔ ظاہر جعفر نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کر رکھی ہے۔جج نے مزید کہا کہ اس طرح کے غیر شادی شدہ تعلقات نہ صرف ملک بلکہ شریعت کے قانون کے بھی خلاف ہیں، اور نوجوانوں کو ایسے تعلقات سے بچاؤ کے لیے خبردار کیا۔ نور مقدم جولائی 2021 میں ظاہر جعفر کے گھر سے مردہ حالت میں پائی گئی تھیں، اور اس کیس میں ظاہر جعفر کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔