پی پی کوحکومت اور ایم کیوایم کی بڑھتی قربت اور گورنر ہاؤس ایم کیو ایم کیلئے استعمال ہونے پر بھی تحفظات
اسلام آباد(آن لائن)حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان مختلف امور پر تحفظات اور خدشات کے باعث 28ویں آئینی ترمیم کا معاملہ تاخیر کا شکارہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ پیپلزپارٹی نے اس حوالے سے حکومت اور ایم کیو ایم کے درمیان بڑھتی قربت پربھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے ذرائع کے مطابق 27 ویں ترمیم کی منظوری کے موقع پر پیپلز پارٹی کیساتھ ایم کیو ایم کی تجاویز پر کوئی مشاورت نہیں ہوئی، پیپلز پارٹی کسی بھی ایسی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی جس سے سندھ تقسیم کا کوئی شبہ بھی ہو۔ ذرائع پی پی کے مطابق پیپلز پارٹی کو گورنر ہاؤس سندھ کے وفاق کی علامت کی بجائے ایم کیو ایم کے استعمال ہونے پر بھی تحفظات ہیں۔مسلم لیگ ن کی قیادت خصوصاً وزیراعظم میاں شہباز شریف کیساتھ متعدد ملاقاتوں میں اہم امور زیر غور آچکے ہیں اورچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، وزیر اعلیٰ سندھ اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کئی امور پر اتحادی ن لیگ کو آگاہ کرچکے ہیں