28ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی نظام سے متعلق ترامیم شامل کی جائیں گی مصطفی کمال

  27ویں ترمیم کے موقع پر بارگیننگ نہیں کی،  عوامی مسائل کا حل نکالا ‘ ہر سیاسی جماعت کے پاس گئے،  پیپلز پارٹی 27ویں ترمیم میں ہمارے بل کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھی
 وفاق کو بلوچستان کے لوگوں کی محرومیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے، آپ این ایف سی ایوارڈ لیتے ہیں لیکن پی ایف سی کوئی ہے ہی نہیں:وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس
اسلام آباد(آئی این پی )وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں ایک اور آئینی ترمیم متوقع ہے جس میں بلدیاتی حکومتوں سے متعلق تبدیلیاں آئینی ترمیم میں شامل کی جائیں گی جس کا مطالبہ ایم کیو ایم پاکستان کرتی آئی ہے،  27ویں ترمیم کے موقع پر بارگیننگ نہیں کی۔27ویں آئینی ترمیم کے نافذ ہونے کے بعد کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران مصطفی کمال نے آئین کے آرٹیکل 140 اے کا ذکر کیا، جو مقامی حکومتوں سے متعلق ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے اس آرٹیکل میں مجوزہ ترامیم کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ انہیں 28ویں آئینی ترمیم کا حصہ بنا کر زیرِ بحث لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے عوامی مسائل کا حل نکالا اور ہر سیاسی جماعت کے پاس گئے، حکومت میں جانے کے لئے   ایک نکاتی بلدیاتی آئینی ترمیم بل کو سپورٹ کرنے کی شرط رکھی، مسلم لیگ ن نے ہم سے اس پر معاہدہ کیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے شکر گزار ہیں انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا  پیپلز پارٹی 27ویں ترمیم میں ہمارے بل کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھی، ہم سے وفاقی حکومت نے اپیل کی کہ اس مرتبہ اہم قانون سازی کی ضرورت ہے، وزیراعظم، کابینہ، مسلم لیگ ن اور چوہدری سالک سمیت سب کا شکر گزار ہوں۔ پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں، ان سب نے ایم کیو ایم کی آئینی ترمیم کو 27ویں آئینی ترمیم میں شامل کرنے کی حمایت کی۔ایم کیو ایم کے رہنما نے کہا کہ اسٹینڈنگ کمیٹی میں 6 گھنٹے اس پر بحث ہوئی، حکومت نے کہا کہ اس ترمیم میں فوج اور عدلیہ کے حوالے سے ترامیم شامل ہیں، پنجاب نے جو بل پاس کیا ہے وہ من و عن ہمارا بل ہی ہے، یہ ہمارے ہی موقف کی 100 فیصد تائید ہے اور مہر ہے