اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی معاہدہ آج صبح 7 بجے (پاکستانی وقت) سے نافذ ہو گیا، جس کے بعد ہزاروں لبنانی اپنے گھروں کو واپس لوٹنے لگے ہیں۔
جنگ بندی کے معاہدے کے بعد لبنان کے جنوبی علاقے میں جشن منایا گیا، جہاں لوگوں نے فائرنگ کی اور خوشی کا اظہار کیا، لیکن فوری طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔لبنانی فوج نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج کے مکمل انخلاء تک دیہاتی علاقوں میں لوگوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے سے منع کیا گیا ہے۔ تاہم، بیشتر لوگ امید کر رہے ہیں کہ اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیلی حملے مستقل طور پر ختم ہو جائیں گے۔
حزب اللّٰہ کا ردِعمل اور ایرانی حمایت
حزب اللّٰہ نے جنگ بندی پر باضابطہ طور پر کوئی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے، مگر حزب اللّٰہ کے سینئر عہدیدار حسن فضل اللّٰہ نے لبنانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ لبنانی ریاست کے اختیارات میں توسیع کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسرائیل کی جانب سے مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی تجویز ناکام ہو گئی تھی۔
ایران نے اس جنگ بندی معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے، اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایران لبنان کی حکومت، عوام اور مزاحمتی تنظیم کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے شمالی علاقوں میں شہریوں کو روکنا
اسرائیلی فوج نے اپنے شہریوں کو شمالی اسرائیلی علاقوں میں جانے سے روک دیا ہے اور اس بات کی وضاحت کی کہ شہریوں کی محفوظ واپسی کے حوالے سے مزید اپ ڈیٹس فراہم کی جائیں گی۔
لبنان اور شام کی سرحد پر اسرائیلی بمباری
دوسری جانب، لبنان اور شام کی سرحدی علاقوں پر اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری جاری رہی، جس میں 4 لبنانی شہری اور 2 فوجی مارے گئے، جبکہ 12 افراد زخمی ہو گئے، جن میں بچے، خواتین اور شامی ہلالِ احمر کے کارکن شامل ہیں۔
خلاصہ
یہ جنگ بندی معاہدہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 14 ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کی طرف ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، اور دونوں ممالک کے عوام اس معاہدے کے بعد مستقل امن کی امید کر رہے ہیں۔