رانا ثناء اللہ نے بھی پوری طاقت استعمال کی تھی‘ جوخاتون مارچ کی قیادت کر رہی ہیں، انہیں خونریزی دکھائی دے رہی ہے، انہیں پتہ ہے لیڈر بن گئی ہوں:وزیردفاع
فیصلہ کرنا پڑے گا کیا بد امنی، لاقانونیت، فتنہ و فساد، قتل و غارت گری اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا گروہ’’سیاسی جماعت‘‘کہلانے کا حق رکھتا ہے:سینیٹر عرفان صدیقی
اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے حکومت کو اب دارالحکومت کی حفاظت کیلئے اپنا عزم ثابت کرنا پڑے گا کیونکہ صورتحال اس طرف جا رہی ہے کہ اگر پی ٹی آئی والے یہاں آکر بیٹھ جاتے ہیں تو یہ ملک کیلئے ایک بہت بڑا دھچکا ہوگا۔ایک انٹرویو میں خواجہ آصف نے کہا کہ اب ایک فیصلہ کن صورتحال پیدا ہوگئی ہے کیونکہ مذاکرات کا ابھی تک کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دوسرے درجے کی قیادت نرمی دکھا رہی ہے مگر بشری بی بی اسے ایک نادر موقع سمجھ کر آگے بڑھنا چاہتی ہیں، پی ٹی آئی کو اگر روکنا ہے تو طاقت کے استعمال کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ جو خاتون پی ٹی آئی مارچ کی قیادت کر رہی ہیں، انہیں خونریزی دکھائی دے رہی ہے، انہیں پتہ ہے کہ میں قریب پہنچ گئی ہوں اور لیڈر بن گئی ہوں، اس وقت وہ سمجھتی ہیں کہ آگے بڑھنے میں ہی ہمارا فائدہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دور میں بانی پی ٹی آئی جب اسلام آباد پہنچے تو رانا ثنااللہ نے پوری طاقت استعمال کی تھی اور اسلام آباد پر حملہ رک گیا تھا، اب بھی حکومت کا عزم نظر آنا چاہیے کہ ہم نے ہر قیمت پر اس دارالحکومت کا تحفظ کرنا ہے۔دریں اثناء سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی پارٹی لیڈر اور خارجہ امور قائمہ کمیٹی کے سربراہ سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے آج کریں یا کل،فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا بد امنی، لاقانونیت، فتنہ و فساد، قتل و غارت گری اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا گروہ، "سیاسی جماعت" کہلانے کا حق رکھتا ہے؟ ایکس پر اپنے ایک بیان میں سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان کی 77 سالہ تاریخ میں کون سی سیاسی جماعت ہے جس نے صوبائی طاقت کے ذریعے وفاق پر لشکر کشی کی ہو، فائرنگ کی ہو، آنسو گیس پھینکی ہو، نصف درجن اہلکاروں کو قتل اور سینکڑوں کو زخمی کر دیا ہو؟ پی ٹی آئی کے بارے میں واضح اور دوٹوک فیصلے کا وقت آپہنچا ہے۔ مزید تاخیر بہت مہنگی پڑے گی۔