بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی بہن علیمہ خان نے بھائی کی رہائی کے لیے بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بات کرنی ہے، وہ سامنے آ کر کریں، دھمکیاں بند کریں اور ایم این ایز اور پارلیمنٹرینز کو دھمکانے سے باز رہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ وہ اور ان کی بہنیں خوفزدہ نہیں ہیں اور نہ ہی دھمکیوں سے گھبرائیں گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انہیں دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ان کی گاڑی کا حادثہ ہو سکتا ہے۔ علیمہ خان نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے متعلق صورتحال کو واضح کیا جائے کہ وہ کس چیز کے بدلے رہائی چاہتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر بات چیت کرنا ہے تو کھل کر کریں، Give and Take کی بات ہو تو وہ تیار ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے واضح کر دیا ہے کہ چاہے جیل میں عمر بھر گزارنی پڑے وہ جھکیں گے نہیں، اس لیے یہ بتائیں کہ بانی پی ٹی آئی سے کیا مسئلہ ہے۔
علیمہ خان نے چیف جسٹس کی جانب سے وعدہ کیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کیس کی سماعت جلد مقرر ہوگی اور بیرسٹر گوہر لاہور سے آ کر اس سلسلے میں یقین دہانی کرا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹرینز نے عمران خان کے حق میں کھڑے ہو کر اہم تعاون فراہم کیا ہے۔یہ گفتگو اس وقت سامنے آئی ہے جب عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سیاسی کشیدگی عروج پر ہے اور پی ٹی آئی قیادت اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ علیمہ خان کی یہ پیشکش بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی طرف ایک مثبت قدم سمجھا جا رہا ہے۔