سمن آباد انڈر پاس،نئی سروسز لائنز بچھانے کامنصوبہ ٹھس

 سیوریج کی تبدیلی کیلئے مختص فنڈز انڈر پاس کی تزئین و آرائش پر لگا دئیے گئے 
لاہور ( کرائم رپورٹر)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے سمن آباد کے مقام پر تعمیر کئے گئے انڈر پاس کو پی سی ون کے تقاضے پورے کئے بغیر ہی شہریوں کے لئے کھول دیا۔ انڈر پاس کے ساتھ نئی سروسز لائنز بچھانے کا منصوبہ تاحال کاغذوں تک محدود ہے۔انڈر پاس کے ساتھ سیوریج کی نئی مرکزی لائن بچھانے کیلئے33 کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا گیا مگر منصوبے پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق سیوریج لائن کیلئے مختص 330 ملین روپے دیگر مقاصد پر خرچ کر دئیے گئے۔انکشاف ہوا ہے کہ سیوریج کی تبدیلی کیلئے رکھے گئے فنڈز سمن آباد انڈر پاس کی تزئین و آرائش پر لگا دئیے گئے جب کہ واسا بارہا سمن آباد اور ملحقہ علاقوں کی سیوریج لائنز کو خطرناک قرار دے چکا ہے۔گلشن راوی مین بلیوارڈ کے نیچے بوسیدہ سیوریج لائن کے بار بار ٹوٹنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ 2019 اور 2020 میں اسی مقام پر شگاف پڑنے کے باعث سڑک بیٹھ چکی ہے، جس کے بعد واسا نے صرف مٹی اور ریت ڈال کر گڑھے کو وقتی طور پر بھر دیا۔35 سال پرانی، 48 انچ کی سیوریج لائن اب تک تبدیل نہ ہو سکی۔ واسا حکام کے مطابق اس لائن کی معیاد مکمل ہو چکی ہے اور کسی بھی وقت یہ زمین بیٹھنے کا سبب بن سکتی ہے۔شہر کے بیچوں بیچ بوسیدہ سیوریج سسٹم شہریوں کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ متعلقہ ادارے ذمہ داری لینے کو تیار نہیں اور اربوں کے ترقیاتی منصوبے بنیادی انفراسٹرکچر کی کمزوریوں کے باعث خطرے میں پڑ چکے ہیں۔