29 کروڑ 50 لاکھ افراد عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں،کم آمدنی والے 87.5 فیصد ممالک میں خوراک کی مہنگائی 5 فیصد سے زیادہ ہے
غزہ کی پوری آبادی شدید غذائی بحران کا شکار ،پانچ میں سے ایک شخص(تقریبا 5 لاکھ افراد) فاقہ کشی کے دہانے پر ہے: رپورٹ
واشنگٹن(آئی این پی )عالمی بینک نے کہا ہے تنازعات، موسمیاتی تبدیلیوں وشدت اور معاشی جھٹکوں کی وجہ سے دنیابھرمیں خوراک کے عدم تحفظ میں خطرناک حد تک اضافہ ہواہے۔یہ بات غذائی تحفظ کے حوالہ سے عالمی بینک کی حالیہ رپورٹ میں کہی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں تقریبا 29 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ غزہ کی پوری آبادی شدید غذائی بحران کا شکار ہے اور پانچ میں سے ایک شخص(تقریبا 5 لاکھ افراد) فاقہ کشی کے دہانے پر ہے۔ یہ صورتحال اکتوبر 2024 میں ہونے والے تجزیے کے مقابلے میں بدترین ہے۔رپورٹ کے مطابق جنوری سے اپریل 2025 تک کے دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہو رہا ہے کہ پسماندہ اور درمیانے آمدنی والے ممالک میں خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔کم آمدنی والے 87.5 فیصد ممالک میں خوراک کی مہنگائی 5 فیصد سے زیادہ ہے۔ اس وقت 157 میں سے 61 فیصد ممالک میں خوراک کی مہنگائی عمومی افراط زر سے بھی زیادہ ہے