2050تک پاکستان و دیگر ممالک کے 4کروڑ سے زائد افراد کی نقل مکانی کا امکان
اسلام آباد(خصوصی رپورٹ)پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے بتدریج خوراک کی کمی واقع ہو رہی ہے جس کے باعث 2050 تک 4 کروڑ 5 لاکھ افراد کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی خطرات خطے میں لوگوں کے روزگار، خوراک کی پیداوار اور ذریعہ معاش کو تیزی سے متاثر کر رہے ہیں۔آئی او ایم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث مقامی آبادیوں کے لیے فصلیں اگانا، مویشی پالنا اور اپنے ذرائع معاش برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے ، موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ کمزور آبادیوں کو مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تیار کرنے کی عالمی کوششوں کے لیے مطلوبہ مالی وسائل ناکافی ہیں، حالانکہ انسانی بحرانوں سے نمٹنے پر اربوں ڈالر خرچ ہو سکتے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور جدید پیش گوئی کے نظام حکومتوں کو ممکنہ خطرات سے بروقت نشاندہی میں مدد دے سکتے ہیں جبکہ بیرون ملک روزگار کے مواقع بڑھائے جا سکتے ہیں بشرطیکہ کارکنوں کو محفوظ اور قانونی راستے فراہم کیے جائیں۔