متحدہ عرب امارات میں ایک شدید طوفانی موسمی نظام کے باعث گرج چمک، موسلا دھار بارش اور تیز ہواؤں نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ حکام نے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
محکمہ موسمیات نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی (NCM) کے مطابق ملک بھر میں ایک کم دباؤ کے نظام کے باعث غیر مستحکم موسم پیدا ہو گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کا سلسلہ جاری ہے۔ دبئی، ابوظہبی اور شمالی امارات میں رات بھر بجلی کی چمک اور زور دار گرج سنائی دیتی رہی۔رپورٹس کے مطابق دبئی میں برج خلیفہ پر بجلی گرنے کے مناظر بھی دیکھے گئے، جبکہ متعدد علاقوں میں سڑکیں زیرِ آب آنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ مشرقی علاقوں خصوصاً فجیرہ میں سب سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی جہاں مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔حکام کے مطابق بعض علاقوں میں ہوا کی رفتار 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ گئی جس کے باعث درخت گرنے اور عمارتوں سے ملبہ اڑنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ سمندر میں بھی طغیانی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس سے بحری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ابوظہبی پولیس نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی رفتار کم کر کے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی ہے جبکہ ایمرجنسی اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
فیلڈ ٹیمیں مختلف علاقوں میں بارش کے پانی کے جمع ہونے کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔نیشنل ایمرجنسی کرائسس اینڈ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلیں، سیلابی علاقوں، ندی نالوں اور کمزور درختوں سے دور رہیں اور شدید بارش کے دوران ڈرائیونگ سے گریز کریں۔حکام نے خبردار کیا ہے کہ خطرناک مقامات پر جمع ہونا، سیلابی پانی میں داخل ہونا یا ریسکیو ٹیموں کے کام میں رکاوٹ ڈالنا قابل سزا جرم ہے جس پر جرمانہ اور گاڑی ضبط ہونے کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق یہ خراب موسمی صورتحال جمعہ تک برقرار رہنے کا امکان ہے جبکہ ہفتے سے موسم میں بتدریج بہتری آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔