ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے آبنائے ہرمز میں موجود کشیدگی اور عدم استحکام کے پیچھے امریکا اور اسرائیل کی “جارحیت اور قانون شکنی” کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران کہا کہ دشمن ممالک اور ان کے اتحادیوں سے وابستہ جہازوں کو روکنا ایران کے قانونی حقوق میں شامل ہے، کیونکہ ایران بطور ساحلی ریاست اپنی حدود اور سیکیورٹی کے تحفظ کا پابند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی ادارے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی حفاظت اور سمندری سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کر چکے ہیں۔ ایران کا مؤقف یہ ہے کہ عالمی سطح پر اس تنگ سمندری گذرگاہ پر کسی بھی غیر قانونی حرکت یا دخل اندازی کی صورت میں ایران اپنے قانونی حقوق کے تحت فوری کارروائی کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے اس بیان کا مقصد عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی کشیدگی کے لیے امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے، جبکہ ایران اپنی سیکیورٹی اور توانائی کی نقل و حمل کے حقوق کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔اس تناظر میں، آبنائے ہرمز کی اہمیت اقتصادی اور اسٹریٹیجک دونوں سطحوں پر عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، کیونکہ یہ گزرگاہ دنیا کے اہم توانائی برآمد کرنے والے ممالک کے لیے کھلے سمندر تک رسائی کا واحد بڑا راستہ ہے۔