امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز 'کسی نہ کسی طریقے سے' دوبارہ کھول دی جائے گی۔
انہوں نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ رابطے اور پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم ایران نے مذاکرات کی خبروں کی تردید کی ہے۔ پاکستان نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں براہِ راست مذاکرات کی میزبانی کرے گا تاکہ جنگ کا مستقل حل نکالا جا سکے۔ یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ شروع ہوئی تھی، جس کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش سے خطے میں کشیدگی اور عالمی تیل منڈیوں میں بے چینی پھیل گئی۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام ختم کرے، میزائل اور ڈرون پروگرام محدود کرے اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت بند کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا مؤقف ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ تہران کا موقف ہے کہ اس کا پروگرام صرف پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے، امریکی میڈیا رپورٹ کرتا ہے کہ واشنگٹن ایران میں افزودہ یورینیم قبضے میں لینے کے لیے اسپیشل فورسز آپریشن پر غور کر رہا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ اس سے متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایران میں قیادت اور رجیم کی تبدیلی کے حوالے سے، مارکو روبیو نے اشارہ دیا کہ امریکہ ایران میں ایسی قیادت دیکھنا چاہتا ہے جو مختلف پالیسی اپنائے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم لیڈر آیت اللّہ علی خامنہ ای کے بعد اقتدار کے نظام میں غیر یقینی صورتحال ہے۔ خطے کے لیے ایک اہم پیغام میں، انہوں نے کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتیں ختم کرنا خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے کیونکہ یہ ہتھیار سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بحرین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کے حوالے سے، انہوں نے واضح کیا کہ یہ کنٹرول دوبارہ حاصل کیا جائے گا، یا ایران بین الاقوامی قوانین مانے گا یا پھر عالمی اتحاد اسے کھولنے کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران جنگ کے بعد بھی راستہ بند رکھتا ہے، تو اسے ’سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔