سازش کے تحت پرائیویٹ میڈیکل سیکٹر کو تباہ کیا جا رہا ہے ڈاکٹر چودھری عبدالرحمان

سرکاری ادارے میں ایک طالبعلم پر پچاس لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، ایسے میں نجی ادارے اٹھارہ لاکھ میں ڈاکٹر کیسے تیار کریں
پرائیویٹ سیکٹر میں سی آئی پی لانے کی وجہ سے میرٹ بھی کم ہوا ہے اور مختص کردہ سیٹیں بھی خالی رہتی ہیں:صدر پامی کی پریس کانفرنس
لاہور(سلمان چودھری)پاکستان ایسوسی ایشن آف میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹیٹیوشنز کے صدر پروفیسر ڈاکٹر چودھری  عبدالرحمان نے کہا ہے  پامی کی جنرل باڈی میٹنگ میں صحت کے شعبے کو درپیش سنگین مسائل پر غور کیا گیا۔ہمارا مقصد ہیلتھ کیئر سسٹم کو بچانا ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق بجٹ کا کم از کم چھ فیصد صحت پر خرچ ہونا چاہیے، مگر پاکستان میں یہ شرح صرف دو سے ڈھائی فیصد ہے۔ایک سازش کے تحت پرائیویٹ میڈیکل سیکٹر کو تباہ کیا جا رہا ہے،پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر پامی پروفیسر ڈاکٹر چودھری  عبدالرحمان نے کہا  عالمی ادارہ صحت کے مطابق ملک میں ایک ہزار افراد پر ایک ڈاکٹر ہونا چاہیے، مگر اس وقت تیرہ سے چودہ سو افراد پر ایک ڈاکٹر دستیاب ہے۔ نجی شعبے کے چالیس ہزار بیڈز مریضوں کو سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک سازش کے تحت پرائیویٹ میڈیکل سیکٹر کو تباہ کیا جا رہا ہے، جبکہ سرکاری ادارے پر ایک طالبعلم پر پچاس لاکھ روپے تک خرچ آتا ہے، ایسے میں نجی ادارے اٹھارہ لاکھ میں ڈاکٹر کیسے تیار کریں۔پرائیویٹ سیکٹر میں سی آئی پی لانے کی وجہ سے میرٹ بھی کم ہوا ہے اور مختص کردہ سیٹیں بھی خالی رہتی ہیں۔ سی آئی پی سے پہلے میرٹ بھی 80فیصد تھا اور سیٹیں مکمل طور پر بھرتی  تھیں۔ایم ڈی کیٹ میں ایک لاکھ بتیس ہزار طلبہ نے امتحان دیا، مگر اکثریت کو داخلہ نہ مل سکا، جبکہ سنٹرل انڈکشن پالیسی نے میرٹ اور نظام دونوں کو متاثر کیا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمان نے مزید کہا کہ نجی میڈیکل کالجز کو فیکلٹی کی تنخواہوں اور بجلی کے بلوں کی مد میں ماہانہ کروڑوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں، جبکہ فیسوں کے تعین سے متعلق طے شدہ معاہدوں پر بھی عمل نہیں کیا جا رہا‘ملک میں نرسوں اور ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے، خصوصاً ریمیٹالوجی اور نیورولوجی جیسے شعبوں میں ماہرین نایاب ہیں، اور ہر سال سینکڑوں طلبہ بیرون ملک جانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔