پارلیمنٹ لاجز میں غیر قانونی رہائش رکھنے والوں کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس ،،لاجز کی ابتر صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار‘قابضین کے بجلی اور پانی کے کنکشن بند کرنے کی ہدایت
 لاجز میں سی ڈی اے کے بہت سے ملازمین صرف کاغذوں میں موجود ہیں  لفٹوں میں کوئی عملہ نہیں ہوتا ‘ چھت کی حالت انتہائی خراب ہے: سینیٹر وقار مہدی 
اسلام آباد (آن لائن) سینیٹ کی داخلہ کمیٹی نے پارلیمنت لاجز میں غیر قانونی طور پر مقیم   افراد کا بجلی اور پانی فوری طور پر بند کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کمیٹی نے لاجز کی ابتر صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر فنڈز کی فراہمی کی سفارش کی ہے۔جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کااجلاس چیرمین سینیٹر فیصل سلیم الرحمن کی سربراہی میں منعقد ہوا۔اجلاس میں پارلیمنٹ لاجز اور ایم این اے ہاسٹل کی خراب صورتحال پر شدید بحث ہوئی۔ سینیٹرز نے لاجز میں چوہوں اور دیمک کا راج قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی، جبکہ چیئرمین سی ڈی اے نے صفائی، تزئین و آرائش اور غیر قانونی قبضوں کے مسائل کا اعتراف کیا۔سینیٹر وقار مہدی نے لاجز کی صفائی کی بری صورتحال کے حوالے سے کہا کہ لاجز میں سی ڈی اے کے بہت سے ملازمین صرف کاغذوں میں موجود ہیں انہوں نے کہا کہ لفٹوں میں کوئی عملہ نہیں ہوتا اور چھت کی حالت انتہائی خراب ہے۔سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ لاجز میں چوہے ہی چوہے ہیں دیمک اتنی زیادہ ہے کہ کپڑے تک کھا جاتی ہے۔ صفائی اور سیکورٹی کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا میں  لکھتے ہیں کہ پارلیمنٹرینز مہنگی جگہ پر رہتے ہیں انہیں آکر دیکھنا چاہیے کہ حقیقت کیا ہے۔ کمیٹی کو چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ پارلیمنٹ لاجز کی تزئین و آرائش سی ڈی اے اپنے پیسے سے نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی رابطہ کرتا ہے، اسے ہاؤس کمیٹی سے رجوع کرنے کا کہا جاتا ہے۔ کمیٹی کو وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 3 سے 4 ماہ میں لاجز کی مکمل تزئین و آرائش مکمل کر لی جائے گی۔ اس دوران ممبران کو عارضی طور پر کسی اور جگہ منتقل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔