لڑکی کو بھگانے کے جھوٹے الزام میں خاتون پر تشدد، بال کاٹ کر قید کر دیا گیا

لڑکی کو بھگانے کے جھوٹے الزام میں خاتون پر تشدد، بال کاٹ کر قید کر دیا گیا

یہ واقعہ نیوسعیدآباد کے نواحی علاقے غلام محمد مناہجا گاؤں میں پیش آیا، جہاں خاتون حسنہ انڑ کو مبینہ طور پر ایک لڑکی فاطمہ زاہد انڑ کو گھر سے بھگانے میں مدد کرنے کے الزام میں رشتہ داروں نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

واقعے کی تفصیل:
الزامات:

40 سالہ حسنہ انڑ پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے فاطمہ زاہد انڑ کو پسند کی شادی کرانے میں مدد کی۔رشتہ داروں نے اس الزام پر حسنہ انڑ کو تشدد کیا، ان کے سر کے بال کاٹے، اور انہیں کمرے میں بند کر دیا۔
پولیس کی کارروائی:

نیوسعیدآباد پولیس نے فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے حسنہ انڑ کو بند کمرے سے نکالا اور ہسپتال منتقل کیا۔ایس ایس پی مٹیاری فیصل بشیر میمن نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاتون کے بھائی کی مدعیت میں 5 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
گرفتار شدہ ملزمان:

غلام نبی انڑ
عبدالحمید انڑ
گل شیر انڑ
خادم انڑ
معین انڑ
متاثرہ خاتون کا ردعمل:

حسنہ انڑ نے میڈیا کے سامنے اپنی بے گناہی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے میں بالکل بے قصور ہیں اور ان پر جھوٹے الزامات لگا کر تشدد کیا گیا۔انہوں نے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو سخت سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔
سماجی و قانونی پہلو:
یہ واقعہ گھریلو تشدد، خواتین کے خلاف جرائم اور غیرت کے نام پر ظلم کی ایک اور المناک مثال ہے۔پولیس کی فوری کارروائی اور ایس ایس پی کا نوٹس لینا ایک مثبت قدم ہے، لیکن اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سماجی بیداری اور قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔متاثرہ خاتون کو قانونی و نفسیاتی مدد فراہم کی جانی چاہیے تاکہ وہ انصاف حاصل کر سکیں۔
اس واقعے نے ایک بار پھر خواتین کے تحفظ اور انصاف کے نظام کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ ملزمان کو سخت سزا ملے گی اور معاشرے میں ایسے جرائم کی حوصلہ شکنی ہوگی۔