وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی کم نمائندگی ، کل ملازمین کاپونے سات فیصد ہیں:رپورٹ

 خواتین کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کے لیے کوٹے کے سخت نفاذ کو یقینی بنایا گیاہے،وفاقی وزیر اسٹیبلیشمنٹ احد چیمہ  
اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان میں وفاقی ملازمتوں میں خواتین کی صنفی شمولیت کے لیے پالیسیوں، کوٹہ اور مخصوص مراعات کے باوجود اب بھی وفاقی اداروں، خاص طور پر قیادت اور فیصلہ سازی کے کردار میں ان کی نمائندگی تناسب کم ہے۔وفاقی اداروں میں ملازمین کی تعداد جہاں 7لاکھ 14ہزار سے تجاوز کر چکی ہے وہاں خواتین کی نمائندگی صرف 49ہزار ہے جو کل ملازمین کا صرف پونے سات فیصد فیصد ہیں۔ میڈیارپورٹ کے مطابق مختلف وفاقی سرکاری محکموں میں کم و بیش 30ہزار خواتین ملازمت کر رہی ہیں۔ ان میں سے 6,715خواتین بنیادی پے سکیل17سے 22کے عہدوں پر فائز ہیں، جو کل خواتین ملازمین کا 22.24فیصد بنتی ہیں، جبکہ باقی 78فیصد خواتین بی ایس 1سے 16میں کام کر رہی ہیں۔ دفاع ڈویژن میں سب سے زیادہ خواتین ملازمین ہیں، جو کل خواتین ملازمین کا 37.31فیصد بنتی ہیں، اس کے بعد وفاقی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن 20.42فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دیگر اہم ڈویژنز میں خواتین کی نمایاں نمائندگی میں داخلہ ڈویژن 7.10فیصد، قومی صحت سروسز ریگولیشنز اور کوآرڈی نیشن ڈویژن 6.52فیصد اور مواصلات ڈویژن 4.75فیصد شامل ہیں۔بی ایس 17سے 22میں کام کرنے والی خواتین ملازمین کی تقسیم سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے 63.01فیصد بی ایس 17میں، 24.10فیصد بی ایس 18میں، 9.81فیصد بی ایس 19میں، 2.37فیصد بی ایس 20میں، 0.60فیصد بی ایس 21میں، اور صرف 0.12فیصد بی ایس 22میں کام کر رہی ہیں۔ اس کے برعکس بی ایس 1سے 16میں ملازمت کرنے والی خواتین میں 33.97فیصد بی ایس 1-5میں، 23.48فیصد بی ایس 16، 13.20فیصد بی ایس 14، 8.54فیصد بی ایس 7، 8.13فیصد بی ایس 9، 6.59فیصد بی ایس 11 اور 3.02فیصد بی ایس 15میں کام کر رہی ہیں۔ یہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اگرچہ خواتین تمام پے سکیلز میں موجود ہیں، لیکن ان کی اکثریت نچلے اور درمیانے درجے کے عہدوں پر ہے، جبکہ اعلیٰ عہدوں پر ان کی تعداد انتہائی کم ہے۔سکیورٹی خدمات میں بھی صنفی تفاوت نمایاں ہے۔ سول مسلح افواج(پولیس کے علاوہ) میں خواتین صرف 6فیصد ہیں۔ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی سیکرٹریٹ، منسلک محکمے، ماتحت دفاتر، آئینی ادارے، اور خودمختار یا نیم خودمختار ادارے، وفاقی خدمات، بشمول سی ایس ایس میں خواتین کے لیے 10فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ صنفی تنوع کو فروغ دیا جا سکے، لیکن مختلف محکموں میں اس پر عملدرآمد ممکن نہیں ہو پا رہا۔ اس حوالے سے وفاقی وزیر اسٹیبلیشمنٹ احد چیمہ کا کہنا ہے کہ خواتین کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت نے مختلف اقدامات کیے ہیں، جیسا کہ کوٹے کے سخت نفاذ کو یقینی بنانا اور میرٹ پر مبنی بھرتی کو فروغ دینا۔ 2023 میں ایک خصوصی سی ایس ایس امتحان متعارف کرایا گیا، جس میں چوتھی کوشش کی اجازت دی گئی اور عمر کی حد بڑھا کر 35 سال کر دی گئی تاکہ خواتین اور دیگر کوٹہ پر مبنی گروہوں کے لیے خالی آسامیوں کو پر کیا جا سکے۔