پاکستان کیساتھ 2ارب ڈالر کا سٹاف لیول معاہدہ ہوگیا اقتصادی صورتحال بہتر‘افراط زر کم ترین سطح پر ہے:آئی ایم ایف

معاہدے کی حتمی منظوری  ایگزیکٹو بورڈ دے گا ‘ قدرتی آفات کیخلاف پاکستان کی مدد کریں گے،  سخت مانیٹری پالیسی کے باعث مہنگائی کی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے گا
موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے نمٹنے کیلئے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت 1.3 ارب ڈالر ملیں گے، یکم جولائی  سے زرعی آمدن پر انکم ٹیکس کی وصولی یقینی بنانا ہو گی،اعلامیہ 

اسلام آباد(آئی این پی)پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان  مذاکرات کامیاب ہوگئے جس کے بعد2 ارب ڈالر قرض کا اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔ جاری اعلامیہ کے مطابق  پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان پہلے جائزے کیلئے اسٹاف لیول معاہدہ طے پاگیا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کی قیادت نیتھن پورٹر نے کی۔ معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ دے گا۔منظوری کی صورت میں پاکستان کو توسیعی فنڈ فیسیلیٹی کے تحت 1 ارب ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی اور آفات سے نمٹنے کے لیے 28 ماہ کی ارینجمنٹ کے تحت 1.3 ارب ڈالر ملیں گے۔پرو گرام کے تحت مجموعی قرض کی رقم 2 ارب ڈالر ہوجائے گی۔یہ توسیعی فنڈ فیسیلیٹی ارینجمنٹ 37 ماہ کے لیے ہوگا۔آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں افراط زر 2015 کے بعد سے کم ترین سطح پرہے،18 ماہ کے دوران پاکستان نے چیلنجز کے باوجود میکرو اکنامک استحکام کی بحالی میں پیش رفت کی۔آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستان میں اقتصادی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔اقتصادی سرگرمیاں بتدریج بڑھنے کاامکان ہے البتہ پاکستان کو ماحولیات سے متعلق خطرات کا تاحال سامنا ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مزید کہا کہ اصلاحات پر عمل درآمد اور پاکستان کے سماجی تحفظ کو فروغ دینے کیلئے پر عزم ہیں، قدرتی آفات کے خلاف پاکستان کی مدد کریں گے، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بجٹ اور سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے حمایت جاری رکھیں گے۔آئی ایم ایف نے کہا کہ توانائی کے شعبے کی اصلاحات کیلئے بھی پاکستان کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے جس کے تحت نہ صرف معیشت کی بحالی کو ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ مستقبل میں مالیاتی خودمختاری کے اہداف بھی حاصل کیے جا سکیں گے۔