مبینہ جعلی عامل گرفتار

لاہور (کرائم رپورٹر)پاکستان میں ڈیجیٹل جرائم پر نظر رکھنے والے ادارے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) پنجاب نے لاہور سے ایک ایسے مبینہ جعلی عامل کو گرفتار کیا ہے جس کے قبضے سے درجنوں خواتین کا حساس ڈیٹا اور سینکڑوں نازیبا ویڈیوز بر آمد ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت علی احمد کے نام سے ہوئی ہے،جو لاہور کے علاقے ساندہ کا رہائشی ہے اور انارکلی بازار میں بجلی کے سامان کی دکان چلاتا ہے۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر عام سی زندگی گزارنے والے اس شخص نے سوشل میڈیا پر 'روحانی علاج اور استخارے' کا ایک باقاعدہ جال پھیلا رکھا تھا۔ملزم انسٹاگرام،ٹک ٹاک اور واٹس ایپ کے ذریعے مشکلات کا شکار خواتین سے رابطہ کرتا اور ان کا اعتماد جیت کر ان کی ذاتی معلومات اور تصاویر حاصل کر لیتا،جس کے بعد بلیک میلنگ کا سلسلہ شروع ہوتا۔موبائل فونز کی فرانزک رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات میں این سی سی آئی اے پنجاب کے مطابق ملزم کے موبائل فونز کی فرانزک جانچ کے دوران 763 قابلِ اعتراض ویڈیوز،1,338 تصاویر اور لگ بھگ40 خواتین کا ذاتی ڈیٹا ملا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک19 متاثرہ خواتین کی شناخت ان کے ناموں اور فون نمبروں سے کر لی گئی ہے اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ دورانِ ریمانڈ ملزم کے ٹھکانوں سے دو موبائل، انٹرنیٹ را ئوٹرز اور استخارے کی کتاب بھی بر آمد کی گئی ہے۔ڈائریکٹر این سی سی آئی اے محمد علی وسیم کا کہنا ہے کہ خواتین کا استحصال کرنے والے ایسے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی اور انہیں سخت سزا دلانے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔انہوں نے شہریوں،بالخصوص خواتین کو متنبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر اجنبیوں اور آن لائن روحانی دعوے کرنے والوں پر بھروسہ کرنے سے گریز کریں۔