کسی پولیس افسر کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں :ہائیکورٹ

لاہور(خصوصی رپورٹ)گوجرانوالہ میں ہتھکڑیاں لگے نوجوانوں کو گنجا کرکے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کا معاملہ ، لاہورہائیکورٹ نے آئی جی پنجاب ، سی پی او گوجرانوالہ سمیت دیگر کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کا تحریری حکم جاری کردیا۔لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی ضیاء  باجوہ نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔  درخواست گزار کی جانب سے احمد شیر ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے ، تحریری حکم میں کہا گیاکہ کسی پولیس افسر کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔  پولیس افسر  ملزم کی بیعزتی کرنے، اسے گنجا کرنے یا کسی بھی طریقے سے غیر انسانی سلوک کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔تحریری حکم کے مطابق گنجا کر  کے ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنا عزت نفس مجروح کرنے کے مترادف ہے ، ایسے اقدامات سے عوام کا قانون کی حکمرانی ،  شفافیت اور نظام انصاف سے اعتماد ختم ہوتا ہے،  پولیس افسروں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ وہ قانون کے رکھوالے ہیں ، پولیس کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ غیر تسلی بخش ہے۔ پولیس کی ایف آئی آر میں صرف تین ملزموں  کی گرفتاری کا ذکر کیا گیا ،سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نو افراد گرفتار نظر آرہے ہیں ، پولیس یہ بتانے میں ناکام رہی کہ ہتھکڑیوں میں جکڑے دیگر چھ ملزم کون ہیں، آر پی او گوجرانوالہ اس حوالے سے تمام نکات کا جائزہ لیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ جمع کروائیں۔