گوجرانوالہ میں ملزموںکو گنجا کرکے ویڈیو وائرل کرنے پر سخت برہمی کا اظہار، آر پی او سے تفصیلی رپورٹ طلب
لاہور (یواین پی) لاہور ہائیکورٹ نے ملزمان کے انسانی حقوق اور ان کی عزتِ نفس کے تحفظ کے حوالے سے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پولیس تفتیش یا حراست کے دوران ملزموں کے ساتھ کسی بھی قسم کا تضحیک آمیز یا غیر انسانی رویہ اختیار نہیں رکھ سکتی۔ اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے وکیل احمد چودھری کی جانب سے دائر درخواست پر جسٹس علی ضیا باجوہ نے سماعت کی، یہ درخواست گوجرانوالہ میں پولیس کی جانب سے ملزمان کو گنجا کرکے ہتھکڑیاں لگا کر ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی، عدالت نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گوجرانوالہ پولیس کی جمع کروائی گئی رپورٹ کو یکسر غیر تسلی بخش قرار دے دیا۔جسٹس علی ضیا باجوہ نے اپنے تحریری حکم نامے میں پولیس کے اختیارات اور شہریوں کے بنیادی حقوق کی حدود کا تعین کرتے ہوئے لکھا کہ کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ قانون اپنے ہاتھ میں لے یا کسی بھی ملزم کی تذلیل کرے، پولیس کو قطعی طور پر یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ سزا کے طور پر کسی ملزم کا سر منڈوا دے، اس کی داڑھی کاٹ دے، یا اس کے ساتھ کوئی اور غیر انسانی یا ذلت آمیز سلوک کرے۔معزز جج نے اپنے حکم نامے میں ملزمان کی تضحیک آمیز ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر پھیلانے کے عمل کو سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیا، عدالت کا کہنا ہے کہ ایسی ویڈیوز وائرل ہونے سے ناصرف ملزم کی عزتِ نفس بری طرح مجروح ہوتی ہے، بلکہ پورے نظامِ انصاف پر سے عوام کا اعتماد بھی اٹھ جاتا ہے، پولیس افسران کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ قانون کے محافظ ہیں، اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ صرف اور صرف آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے اختیارات کا استعمال کریں اور ہر شہری کی عزت و بنیادی حقوق کا مکمل احترام کریں۔