یومِ عاشور پر پولیس کے مثالی انتظامات

محمد ندیم بھٹی
یومِ عاشور اسلامی تاریخ کا وہ عظیم، بامعنی اور روحانی طور پر گہرا دن ھے جو صبر، استقامت، قربانی، حق پر ڈٹ جانے اور ظلم کے خلاف قیام کی روشن ترین علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جاتا رھے گا۔ حضرت امام حسین اور ان کے جانثار رفقاء￿  کی عظیم قربانی نہ صرف امتِ مسلمہ بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا پیغام ھے جو ہر دور میں حق، انصاف اور اصول پسندی کی رہنمائی کرتا ھے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں یہ دن عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جاتا ھے، جہاں مجالس، جلوس، ماتمی اجتماعات اور دیگر مذہبی رسومات کا اہتمام کیا جاتا ھے۔ ایسے حساس مواقع پر ریاست، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریاں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں کیونکہ لاکھوں شہریوں کے جان و مال، مذہبی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کا تحفظ ایک قومی فریضہ بن جاتا ھے۔
پنجاب حکومت نے یومِ عاشورہ کے موقع پر امن و امان کے قیام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمتِ عملی اختیار کی ھے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا واضح ویژن ھے کہ ہر شہری کو مکمل آزادی اور تحفظ کے ساتھ اپنے عقائد کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق حاصل ھے۔ ان کا یہ مؤقف صرف ایک سیاسی اعلان نہیں بلکہ ایک عملی پالیسی کی شکل اختیار کر چکا ھے جس کے تحت انتظامی مشینری کو متحرک کیا گیا ھے تاکہ شہریوں کو نہ صرف تحفظ فراہم کیا جائے بلکہ ان کے اعتماد کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ ایک جدید فلاحی ریاست کی بنیاد یہی ھے کہ وہ اپنے شہریوں کو خوف سے پاک، محفوظ اور باعزت ماحول فراہم کرے۔
ڈی آئی جی آپریشنز لاھور فیصل کامران کی قیادت میں لاھور پولیس نے یومِ عاشورہ کے لیے ایک تفصیلی اور جامع سکیورٹی پلان ترتیب دیا۔ اس پلان میں شہر بھر کے حساس مقامات کی نشاندھی، مجالس اور جلوسوں کے روٹس کا تفصیلی معائنہ، اور سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد میں تعیناتی شامل ھے۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے واضح ہدایات جاری کیں کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق انٹیلی جنس نیٹ ورک، سیف سٹی کیمروں اور فوری رسپانس یونٹس کو مکمل طور پر فعال کیا گیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔
اسی حکمتِ عملی کے تسلسل میں ایس پی صدر ڈویڑن شاہ رخ خان نے بھی اپنے دائرہ اختیار میں خصوصی اور مؤثر اقدامات کیے۔ انہوں نے مختلف علاقوں کے تفصیلی دورے کیے، سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور مقامی علماء￿  کرام، مجالس و جلوس کے منتظمین اور علاقے کے عمائدین سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد اعتماد سازی، رابطے کی مضبوطی اور ممکنہ مسائل کو بروقت حل کرنا تھا۔ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا کسی بھی پرامن معاشرے کی بنیاد ھے اور یہی جدید پولیسنگ کا بنیادی اصول بھی ھے کہ عوام کو ساتھ لے کر چلنے سے ہی پائیدار امن ممکن ھوتا ھے۔
یومِ عاشورہ کے موقع پر سب سے اہم پہلو یہ ھے  ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنی عقیدت اور مذہبی رسومات کے مطابق مکمل 
آزادی اور تحفظ حاصل ھو۔ پاکستان کا آئین بھی شہریوں کو مذہبی آزادی کا حق دیتا ھے اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ھے  وہ اس حق کو عملی طور پر یقینی بنائیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب اور ڈی آئی جی آپریشنز کے وڑن میں یہی بات نمایاں ھے  ریاست صرف قانون نافذ کرنے کا نام نہیں بلکہ شہری آزادیوں، مذہبی جذبات اور انسانی وقار کی محافظ بھی ھے۔
آج کے دور میں سکیورٹی چیلنجز پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور متنوع ھو چکے ہیں۔ دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ واریت اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہیں کسی بھی وقت امن و امان کی صورتحال کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ایسے حالات میں پولیس کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر جاتا ھے۔ لاہور پولیس نے گزشتہ برسوں میں اپنی حکمت عملی کو جدید خطوط پر استوار کیا ھے، جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال، سیف سٹی منصوبے، انٹیلی جنس شیئرنگ اور فوری رسپانس سسٹم شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات اس بات کی ضمانت ہیں کہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال کو بروقت کنٹرول کیا جا سکے۔
صدر ڈویژن میں ایس پی شاہ رخ کی قیادت میں کیے گئے اقدامات اسی مجموعی سکیورٹی پلان کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی ہدایت پر نہ صرف جلوسوں اور مجالس کی سکیورٹی کو فول پروف بنایا گیا بلکہ ٹریفک کے نظام کو بھی منظم رکھا گیا تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل رابطہ برقرار رکھا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کو فوری حل کیا جا سکے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ھے  امن و امان کا قیام صرف پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی فریضہ ھے۔ علماء￿  کرام، مشائخ، میڈیا، سول سوسائٹی اور عام شہری سب کو اس عمل میں اپنا کردار ادا کرنا ھوتا ھے۔ جب معاشرے کے تمام طبقات ایک مقصد کے لیے متحد ھو جائیں تو امن قائم رکھنا نہایت آسان ھو جاتا ھے۔ یومِ عاشورہ ہمیں یہ سبق دیتا ھے کہ برداشت، رواداری اور باہمی احترام ھی ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد ہیں۔
حضرت امام حسین کی قربانی ہمیں یہ پیغام دیتی ھے کہ حق اور سچ کے لیے کھڑا ھونا ھی اصل کامیابی ھے۔ ان کی تعلیمات ہر زمانے اور ہر معاشرے کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یومِ عاشورہ اسی پیغام کی تجدید کا دن ھے جہاں ہم اپنے کردار، رویوں اور اجتماعی ذمہ داریوں کا جائزہ لیتے ہیں اور ایک بہتر معاشرے کے قیام کا عزم کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ وژن کہ ہر شہری کو مکمل تحفظ، عزت اور سہولت فراہم کی جائے، ایک جدید فلاحی ریاست کی عکاسی کرتا ھے۔ اسی طرح ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی قیادت اور فیلڈ افسران کی نگرانی میں لاھور پولیس کا فعال کردار اس بات کا ثبوت ھے کہ شہریوں کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ھے۔ ایس پی صدر ڈویژن شاہ رخ خان  کی عملی کاوشیں بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہیں جنہوں نے زمینی سطح پر سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا اور عوامی اعتماد کو مضبوط کیا۔
آخر میں یہ بات بالکل واضح ھے کہ یومِ عاشور صرف ایک مذہبی دن نہیں بلکہ اتحاد، قربانی، برداشت اور انسانیت کا عالمی پیغام ھے۔ اس دن کی اصل روح یہی ھے کہ ہم اپنے معاشرے میں امن، انصاف اور رواداری کو فروغ دیں تاکہ ہر شہری خود کو محفوظ اور باعزت محسوس 
کرے۔ ریاستی اداروں، خصوصاً لاھور پولیس، ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس پی صدر ڈویژن کی یہ کوششیں اسی عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ 
پاکستان کو ایک پرامن، محفوظ اور مضبوط ریاست بنایا جائے، جہاں ہر فرد اپنے عقائد اور آزادی کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکے۔ یہی وہ ویڑن ھے جو ایک ذمہ دار ریاست کو مضبوط اور پائیدار بناتا ھے۔