خادم حسین
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کو اندرونی یا بیرونی خطرات لاحق ہوئے، نہ صرف مسلح افواج نے جانفشانی سے وطن کا دفاع کیا بلکہ پوری قوم نے یک زبان ہو کر قومی سلامتی کے تحفظ کی حمایت کی۔ حالیہ دنوں میں جب ملک کو درپیش چیلنجز نے ایک بار پھر قومی وحدت کو آزمائش میں ڈالا، تاجر برادری نے نہ صرف افواجِ پاکستان سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا بلکہ عملی اقدامات کرتے ہوئے ''دفاعِ پاکستان فنڈ'' بھی قائم کیا۔ یہ اقدام اس بات کی دلیل ہے کہ وطنِ عزیز کے دفاع میں ہر طبقہ، خصوصاً کاروباری حلقہ، افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔
پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین اور منظم ترین افواج میں ہوتا ہے۔ بری، بحری اور فضائیہ ہر میدان میں اپنے جذبہ ایمانی، تربیت اور تکنیکی مہارت کی بدولت ہر چیلنج کا سامنا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو قربانیاں دی ہیں، وہ عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں۔ آپریشنز جیسے ضربِ عضب اور ردالفساد نے نہ صرف ملک کو داخلی سلامتی عطا کی بلکہ دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کی افواج ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔
کسی بھی ملک کی افواج اس وقت زیادہ موثر ہوتی ہیں جب انہیں اپنی قوم کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ پاکستان کے عوام نے ہر مشکل وقت میں اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہو کر دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے۔ چاہے وہ 1965 کی جنگ ہو، 1971 کا المیہ، یا حالیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ، ہر دور میں عوام نے اپنی فوج پر اعتماد کیا۔
ملک کے موجودہ حالات میں جب اندرونی خلفشار اور بیرونی دباؤ موجود ہے، تاجر برادری نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ''دفاعِ پاکستان فنڈ'' کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ فنڈ ایک غیر سیاسی، قومی جذبے کے تحت شروع کیا گیا ہے تاکہ افواجِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا عملی ثبوت پیش کیا جا سکے۔ کراچی، لاہور، فیصل آباد، سیالکوٹ، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے تجارتی مراکز میں مختلف انجمنوں، چیمبرز آف کامرس اور تاجر تنظیموں نے اس فنڈ میں حصہ ڈالنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دفاعِ پاکستان فنڈ کا مقصد اور دائرہ کاراس فنڈ کا مقصد صرف مالی معاونت نہیں بلکہ ایک علامتی اور اخلاقی پیغام دینا ہے کہ پاکستان کے تاجر دشمن کے خلاف مزاحمت میں اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اس فنڈ سے حاصل ہونے والی رقم مختلف قومی مفادات کے منصوبوں، خصوصاً شہدا کے خاندانوں، ریٹائرڈ سپاہیوں، یا دفاعی ضروریات کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف حب الوطنی کا مظہر ہے بلکہ ایک قومی بیانیہ بھی ہے کہ ''ہم سب ایک ہیں''۔
حال ہی میں ملک کے مختلف حصوں میں افواج پاکستان کے حق میں جلسے، ریلیاں اور تقاریب منعقد کی گئی ہیں جن میں تاجروں نے نہ صرف شرکت کی بلکہ ان کی مالی معاونت بھی کی۔ کاروباری طبقے نے اپنے کاروباری اداروں پر قومی پرچم آویزاں کیے، شہدا کی تصاویر آویزاں کیں، اور میڈیا کے ذریعے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔ ان تمام اقدامات کا مقصد افواجِ پاکستان کا حوصلہ بلند کرنا اور دشمن کو باور کرانا ہے کہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہیں۔
معاشی استحکام کسی بھی قوم کے دفاعی استحکام کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تاجر برادری اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ اگر ملک کے دفاع میں کمزوری آئی تو معیشت بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ اسی لیے تاجر طبقہ دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور قومی یکجہتی کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔ دفاعِ پاکستان فنڈ دراصل اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ معیشت اور دفاع ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ جدید دور میں نوجوان نسل سوشل میڈیا، آئی ٹی اور ای کامرس میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کئی نوجوان کاروباری شخصیات، خاص طور پر سٹارٹ اپ کلچر سے وابستہ، نے بھی افواجِ پاکستان سے یکجہتی کے لیے مہمات چلائی ہیں۔ نوجوان تاجروں کی جانب سے سوشل میڈیا پر #StandWithPakArmy جیسے ہیش ٹیگز نے بین الاقوامی سطح پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔
موجودہ حالات میں سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ سیاسی، لسانی یا معاشی اختلافات سے قطع نظر، پاکستانی قوم دفاعِ وطن کے لیے متحد ہے۔ تاجر برادری کی طرف سے دفاعی اداروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی ایک مثال ہے کہ جب قوم یکجا ہو، تو دشمن کا کوئی حربہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ یہ اتحاد پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ ہماری صفوں میں کوئی دراڑ نہیں۔ مسلح افواج کی قربانیاں، عوام کی حمایت اور تاجر برادری کے عملی اقدامات مل کر ایک ایسے پاکستان کی بنیاد رکھتے ہیں جو ہر میدان میں خود مختار، مضبوط اور باوقار ہو۔ دفاعِ پاکستان فنڈ کا قیام محض ایک مالی اقدام نہیں، بلکہ یہ ایک نظریاتی علامت ہے کہ پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج پر نہ صرف اعتماد رکھتی ہے بلکہ ان کے ساتھ عملی طور پر کھڑی بھی ہے۔ یہ یکجہتی ہی پاکستان کے مستقبل کی ضمانت ہے۔