امریکی سینیٹ میں ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور مجھے روک کر دشمن کی مدد کی گئی:ٹرمپ

 سینیٹ نے 48 کے مقابلے میں50 ووٹوں سے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ قرارداد کے حق میں فیصلہ دیا
یہ قرارداد قانونی طور پر پابند ہے، اس پر عمل درآمد ضروری ہوگا، چاہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کہیں:ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس
واشنگٹن(آئی این پی ) امریکی سینیٹ نے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظورکرلی۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سینیٹ نے 48 کے مقابلے میں50 ووٹوں سے ایران کیخلاف فوجی کارروائی روکنے سے متعلق مشترکہ قرارداد کے حق میں فیصلہ دیدیا۔  قرارداد اس ماہ کے آغاز میں ایوان نمائندگان سے بھی منظور ہوچکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ میں ری پبلکنز کو اکثریت حاصل ہے۔ ادھر  میں سینیٹ کی جانب سے جنگی اختیارات سے متعلق حالیہ ووٹنگ کے عمل کو ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔امریکی سینیٹ میں پہلی بار کانگریس کے دونوں ایوانوں نے 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت ایک ایسی قرارداد منظور کی ہے جس میں صدر کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ امریکی افواج کو دشمنی کی کارروائیوں سے واپس بلائے۔واشنگٹن ڈی سی میں قائم تنظیم جسٹ فارن پالیسی نے ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق مشترکہ قرارداد کو تاریخی جنگ مخالف سنگِ میل قرار دیا ہے۔ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی میں ڈیموکریٹ رہنما گریگوری میکس نے کہا ہے کہ یہ قرارداد قانونی طور پر پابند ہے، اور اس پر عمل درآمد ضروری ہوگا، چاہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کچھ بھی کہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کیلئے تمام قانونی راستے تلاش کریں گے کہ انتظامیہ کانگریس کے فیصلے پر عمل کرے۔ دوسری جانب  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق امریکی سینیٹ کے وار پاورز ایکٹ ووٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ووٹنگ کو بے معنی قرار دے دیا۔اپنے بیان میں امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے ایران کو مکمل دبا میں لے رکھا ہے، وہ شکست کے دہانے پر کھڑا ہے، ایران ہمیں عملی طور پر ہر وہ چیز دینے پر آمادہ ہے جو ہم چاہتے ہیں، کئی دہائیوں میں پہلی بار ایران امریکا اور اس کے صدر کو بھرپور احترام دے رہا ہے