تیانجن، چین: چینی صدر شی جن پنگ نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا انتشار اور تبدیلی کے ایک نئے دور سے گزر رہی ہے، اور اس کے پیش نظر گلوبل گورننس انیشییٹو کی تجویز پیش کی جاتی ہے تاکہ منصفانہ اور مساوی عالمی حکمرانی کے نظام کی طرف کام کیا جا سکے۔
صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ایس سی او ممالک توانائی، وسائل اور بڑی منڈیوں سے مالا مال ہیں، اور چین توانائی، گرین انڈسٹری اور ڈیجیٹل اکانومی میں تعاون کے پلیٹ فارمز قائم کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے پانچ سال میں فوٹوولٹک اور ونڈ پاور کی تنصیب شدہ صلاحیت میں 10 ملین کلوواٹ کا اضافہ کیا جائے گا۔چینی صدر نے مزید کہا کہ ایس سی او کے ممالک مشترکہ مفاد کے تحفظ کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور طاقت کی سیاست کی مخالفت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے عالمی تعلقات میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو فروغ دینے اور زیادہ جمہوری بین الاقوامی نظام کے قیام پر زور دیا۔
صدر شی جن پنگ نے اعلان کیا کہ چین ایس سی او ممالک کے ساتھ تعاون مرکز قائم کرے گا اور لونر ریسرچ اسٹیشن میں شرکت کے لیے دیگر ممالک کو بھی مدعو کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او اقوام متحدہ، آسیان اور دیگر کثیرالجہتی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھائے گا اور عالمی گورننس سسٹم میں اصلاحات لانے کے لیے محرک کا کردار ادا کرے گا۔