محرم الحرام کے دوران سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ پابندیاں یکم محرم الحرام سے 10 محرم الحرام تک نافذ العمل رہیں گی تاکہ امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔محکمہ داخلہ کی جانب سے دفعہ 144 کے نفاذ کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، جس کے تحت تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامی افسران کو اس فیصلے پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔
دفعہ 144 کے تحت عائد پابندیاں:
صرف منظور شدہ جلوسوں اور مجالس کی اجازت ہو گی۔ کسی نئی یا غیر رجسٹرڈ سرگرمی کی اجازت نہیں ہو گی۔عوامی مقامات پر ہتھیار، آتش گیر مواد یا ان کی نمائش مکمل طور پر ممنوع ہو گی۔
اشتعال انگیز نعرے، اشارے یا بیانات جو کسی بھی فرقے یا گروہ کے جذبات مجروح کر سکتے ہوں، ان پر پابندی عائد کی گئی ہے۔فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت پر مبنی تقاریر، تحریری مواد یا سوشل میڈیا پوسٹس کی اشاعت سختی سے ممنوع ہو گی — چاہے وہ کسی بھی قسم کی ڈیوائس یا پلیٹ فارم کے ذریعے ہو۔جلوس کے راستوں پر واقع عمارتوں کی چھتوں پر مورچے بنانے، پتھر، اینٹیں، بوتلیں یا کچرا جمع کرنے پر مکمل پابندی ہو گی۔تماشائیوں کے طور پر چھتوں، دکانوں کے تھڑوں یا دیگر بلند جگہوں پر بیٹھنے کی بھی ممانعت ہو گی تاکہ کسی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔
ڈبل سواری پر جزوی پابندی
محکمہ داخلہ پنجاب نے واضح کیا ہے کہ ڈبل سواری پر پابندی صرف 9 اور 10 محرم الحرام کو نافذ کی جائے گی۔ تاہم، اس پابندی سے خواتین، بزرگ شہری، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مستثنیٰ ہوں گے۔
سیکیورٹی فورسز کو ہدایات جاری
تمام اضلاع میں پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مجالس، جلوسوں، امام بارگاہوں، اور حساس مقامات کی سخت نگرانی کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فرد کی فوری اطلاع دی جائے۔
عوام سے اپیل
محکمہ داخلہ اور سیکیورٹی اداروں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قانون کا احترام کریں، تعاون کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فرد کی اطلاع قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔ محرم کے دوران امن و امان کے قیام میں عوامی شعور اور شرکت کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔