مختلف مقامات پر سیاح پھنس گئے،تیراہ سے آئی ڈی پیز کی نقل مکانی بحال ،لاہور میں آج بارش
اسلام آباد ،سوات ،کوئٹہ ،پشاور ،لاہور(بیورو رپورٹ،خصوصی رپورٹ)پختونخوا، بلوچستان ،مری سمیت ملک کے دیگر بالائی پہاڑی علاقوں میں دوبارہ شدید برفباری شروع، کئی علاقوں کے زمینی رابطے منقطع ، لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں ہلکی ،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش، سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا، ملک کے بیشتر پہاڑی علاقوں میں آج بھی برفباری اور میدانی علاقوں میں بارش کا امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوات اور برف پوش وادی مالم جبہ میں تین روزہ وقفے کے بعد برفباری کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے پورے پہاڑی علاقے، درختوں اور سڑکوں کو سفید چادر میں لپیٹ دیا، تازہ برفباری کی اطلاع ملتے ہی ملک بھر سے سیاح بڑی تعداد میں وادی مالم جبہ پہنچ گئے۔ وادی کاغان میں حالیہ شدید برفباری کے باعث مختلف رابطہ سڑکوں کی بندش سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔ادھر ایبٹ آباد کی انتظامیہ نے متوقع بارش اور برفباری کے پیشِ نظر معروف تفریحی مقام گلیات میں سیاحوں کے داخلے پر چار دن کیلئے پابندی عائد کر دی ، گلیات میں برفباری کے بعد متعدد رابطہ سڑکیں تاحال بند ہیں جس کے باعث غذائی قلت کا خدشہ ہے جبکہ مری میں بھی برفباری کا نیا سپیل شروع ہو گیا جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیئے ۔برف ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری کا استعمال جاری ہے۔ مری میں متواتر 30گھنٹے کی برفباری سے سڑکوں پر دو دو فٹ برف جم گئی تھی جس پر وزیراعلیٰ پنجاب کی ٹیم نے دن رات ایک کرکے 185 کلو میٹر چھوٹی بڑی48 سڑکیں صاف کر دیں ۔دریں اثناء مری میں شدید برفانی طوفان کی پیشگوئی پر ڈی پی او مری ڈاکٹر محمد رضا تنویر سپرا نے ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی اورکہا کہ آج منگل کی شام تک مری میں شدید برفباری کا امکان ہے، سیاح اور شہری رات کے وقت مری کا سفر کرنے سے مکمل گریز کریں۔ ٹائروں پر سنو چین کے بغیر کسی بھی گاڑی کو مری میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔ کیلاش اوروادی نیلم میں ایک مرتبہ پھر ہلکی برف باری ہوئی، گریس ویلی میں پانچ فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ،جس سے لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ، وادی لیپہ میں شدید برفباری کے باعث زمینی رابطہ منقطع ہوگیااس دوران پاک فوج نے بروقت اور کامیاب ہیلی ریسکیو آپریشن کے ذریعے ایک خاتون مریضہ کی قیمتی جان بچا لی ،ڈاکٹروں نے مریضہ کی نازک حالت کے باعث اسے فوری راولپنڈی منتقل کرنے کی سفارش کی تھی ۔ پاک فوج نے کوٹلی نکیال روڈ کو بھی ٹریفک کیلئے بحال کر دیا۔ ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہوائوں کا ایک اور سسٹم گزشتہ شب بلوچستان میں داخل ہوگیا جس سے کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں بارش اور برف باری کا سلسلہ شروع ہو گیا،چمن اور گردونواح میں موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے، زیارت میں شدید برفباری کے باعث مختلف مقامات پر سیاح پھنس گئے، ایف سی بلوچستان (نارتھ)کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔پختونخوا کے علاقہ شانگلہ پورن بیلہ میں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہونے پر 16 سالہ نوجوان ایاس خان کو بروقت طبی امدادکیلئے ہسپتال منتقل نہ کیا جا سکا جس کے نتیجہ میں وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش قلات میں 41 ، دالبندین 18، زیارت 17، پسنی ،جیوانی 16 ، کوئٹہ (شیخ ماندا، سمنگلی 10)، نوکنڈی، تربت، چمن 8، چترال میں 9 اور بالائی دیرمیں 5 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ اس دوران زیارت میں 9، کوئٹہ 0.7 انچ برفباری ریکارڈ ہوئی۔ علاوہ ازیں کم سے کم درجہ حرارت لہہ میں منفی 14، کالام منفی12 ،زیارت منفی 8، استور،گوپس ،پاراچنارمنفی 7، مالم جبہ ، قلات، راولاکوٹ منفی 5 ،کوئٹہ منفی 2 ، نتھیاگلی منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ دریں اثناء لاہور میں بھی گزشتہ روز گڑھی شاہو ،بھاٹی چوک،لکشمی چوک،جوہرٹائون ، کینال روڈ ،میکلوڈ روڈ ،اقبال ٹائون ،منصورہ، وحدت روڈ کے اطراف میں بارش، کئی علاقوں میں بوندا باندی ہوئی جس سے سردی کی شدت میں اضافہ ہو گیا۔ آج بھی لاہور سمیت پنجاب کے کئی علاقوں میں بارش کا امکان ہے ،گزشتہ روز صوبائی دارلحکومت کا درجہ حرارت 8 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ،سرد ہوائیں چلنے سے سردی برقرار رہی۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شمالی بلوچستان ،آزاد کشمیر کے بالائی اور پہاڑی علاقوں میں بارش اور شدید برفباری کے باعث سڑکوں پر پھسلن ،لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کا خدشہ ہے ،محکمہ موسمیات نے مری ، بٹگرام، چنارکوٹ اور بٹل ایریا سمیت بالائی علاقوں میں آج سے کل شام تک شدید بارش اور برفانی طوفان کی پیش گوئی کی ہے۔ دوسری طرف ریسکیو1122 پختونخوا نے حالیہ شدید برفباری کے دوران کی گئی امدادی سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ شدید برفباری کے دوران ریسکیو1122 نے تین دن میں بھرپور امدادی خدمات انجام دیں، پختونخوا بھر میں برف میں پھنسے 3010 افراد کو بحفاظت نکالا ،942 گاڑیوں کو برف سے نکال کر ٹریفک بحال کی ، 60 اہم سڑکیں اور شاہراہیں ہیوی مشینری سے صاف کی گئیں۔ وادی تیراہ میں ریسکیو آپریشن مکمل کرکے متاثرین کی رجسٹریشن اور نقل مکانی کا سلسلہ 4 روز بعد بحال کردیا ۔ریسکیو آپریشن مکمل ہوتے ہی پیر سے وادی تیراہ میدان کے متاثرین کی رجسٹریشن کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ،رجسٹریشن کیلئے چاروں سینٹرز بحال کئے گئے ہیں ،4 روز قبل تک نقل مکانی کرنے والے تقریبا 10 ہزار خاندانوں کی رجسٹریشن مکمل کر لی گئی تھی ، علاقہ میدان کی مجموعی آبادی 1 لاکھ 30 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر سٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے حالیہ برفباری کے دوران نقصانات کی تفصیلات جاری کر تے بتایا ہے کہ لینڈ سلائیڈنگ سے باغ میں ایک شہری جاں بحق ہوا جبکہ لینڈ سلائیڈنگ ، برفانی تودے گرنے سے 11 گھر مکمل تباہ جبکہ 8 کو جزوی نقصان پہنچا ،دارالحکومت سے پیر چناسی شاہراہ برفباری کے باعث بند ہے جبکہ وادی نیلم کی شاہراہ شاردہ تک بحال ہے ۔