2 ہزار جرمانے کاخوف)لاہوریئے سارے کام چھوڑ کر سیفٹی راڈ لگوانے پر لگ گئے(سڑکوں پر لمبی قطاریں)

بسنت کی تیاری کے سلسلے میں لاہور میں 100  کیمپوںکے ذریعے سیفٹی راڈز کی تقسیم کا عمل جاری ہے‘منصوبے پر  11 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے 
 10 لاکھ سیفٹی راڈز شہریوں تک پہنچائے جائیں گے‘شہری  راڈ حاصل کرنے کیلئے  کئی گھنٹے انتظار کرتے  ہیں‘ تین زونز میں بغیرہیلمٹ موٹر سائیکل سواروں کا داخلہ ممنوع ہوگا
عام دکانوں پر لوٹ مار‘ایک راڈ 250سے 300 روپے کا دیا جارہا ہے‘قوانین پر عملدرآمد ضرور کروائیں مگر موٹرسائیکل سواروں کو جرمانے کی شرح2ہزار کے بجائے500روپے کر دی جائے
 دکانداروں کے خلاف بھی کریک ڈائون کیا جائے تاکہ وہ راڈ کی قیمت کم کریں ‘مہنگے ہیلمٹ فروخت کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی کی جائے:شہریوں کی روزنامہ’’حریف‘‘ سے گفتگو
لاہور(کاشف بٹ‘شہزاد راجپوت)بسنت کی تیاری کے سلسلے میں لاہور میں 100 محفوظ بسنت کیمپس کے ذریعے سیفٹی راڈز کی تقسیم کا عمل جاری ہے۔اس منصوبے پر مجموعی طور پر 11 کروڑ روپے کے اخراجات آئیں گے اور تقریباً 10 لاکھ سیفٹی راڈز شہریوں تک پہنچائے جائیں گے۔شہر کو تین زونز میں تقسیم کیا گیا ہیریڈ زون: اندرون لاہور سمیت 48 علاقے شامل ہیں ،ییلو زون: اچھرہ سمیت 32 علاقے شامل ہیں ،گرین زون: لبرٹی سمیت 20 علاقے شامل ہیں۔تینوں زونز کی اہم شاہراہوں پر سو روڈ سیفٹی کیمپس فعال کیے گئے ہیں، جہاں ضلعی انتظامیہ، ٹریفک اور ریسکیو ٹیمیں ڈیوٹی دیں گی۔ موٹر سائیکل، لوڈر اور رکشہ بغیر ہیلمٹ کے داخلہ ممنوع ہوگا۔ بسنت کے موقع پر انٹر سٹی رائیڈ کے لیے شیخوپورہ، مریدکے، شرقپور سے اندرون شہر،رائیونڈ، مانگا سے ٹھوکر تک،قصور سے چونگی امرسدھوتک فری شٹل بس سروس بھی فراہم کی جائے گی۔کل 695 بسیں شہریوں کو مفت شٹل سروس مہیا کریں گی تاکہ شہری محفوظ اور آسان آمدورفت کر سکیں۔شہری  راڈ حاصل کرنے کیلئے کئی کئی گھنٹے انتظار کرتے رہتے ہیں‘  روزنامہ ’’حریف‘‘ کے سورے کے دوران شہریوں نے شکایات کی ہے  ہمیں روزمرہ کے کام چھوڑ کر راڈ حاصل کرنے کے لئے قطار میں لگنا پڑتا ہے کیونکہ وزیراعلی صاحبہ نے کہا ہے جس نے راڈ نہ لگوایا اسے2ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا‘متعدد افراد نے کہا محنت مزدوری کرنے والے سارا سارا دن کام کی تلاش میں بیٹھے رہتے ہیں‘اگر کام مل بھی جائے تو ہزار یا دو ہزار مزدوری ملتی ہے  وہ بھی راستے میں موٹرسائیکل پر جاتے ہوئے چالان ہو جائے تو سارے پیسے چالان میں نکل جاتے ہیں‘ہماری وزیراعلی مریم نواز سے درخواست ہے وہ جرمانوں کی شرح میں کمی کریں‘ہربات پر جرمانہ نہ کیا جائے‘اس طرح سے پولیس کو بھی 
کرپشن کرنے کا موقع ملتا ہے‘قوانین پر عملدرآمد ضرور کروائیں مگر موٹرسائیکل سواروں کو جرمانے کی شرح2ہزار کے بجائے500روپے کر دی جائے‘شہریوں نے  کہاعام دکانوں پر لوٹ مار جاری ہے‘ایک راڈ 250سے 300 روپے کا دیا جارہا ہے‘مجبور ہوقطار میں کھڑا ہونے سے بچنے کیلئے بازار سے راڈ لگوا رہے ہیں ‘دکانداروں کے خلاف بھی کریک ڈائون کیا جائے تاکہ وہ راڈ کی قیمت کم کریں اور ہیلمٹ بھی پہلے والی قیمتوں پر فروخت کریں