شہریوں کی پھر شامت آگئی پہلے ہیلمٹ‘لائسنس نہ ہونے پرچالان‘اب راڈ نہ لگوانے پرمقدمات لبرٹی چوک میں پاکستان کی سب سے بڑی پتنگ نصب

 پولیس کی مدعیت میں سیفٹی راڈز نہ لگوانے والوں موٹر سائیکل سواروں کے خلاف مقدمات درج ‘مقدمات دفعہ 188 کے تحت درج کئے گئے‘ چھتوں کی ڈرون کیمروں کے ذریعے انسپکشن 
شہریوں نے دوسرے روز18کروڑ کی پتنگیں اور ڈور خرید لی‘  دو دن میں مجموعی طور پر 34 کروڑ روپے خرچ کر ڈالے‘دوسرے روز6 لاکھ سے زائد گڈے اور پتنگیں فروخت ہوئیں
لاہور(کرائم رپورٹر‘سپیشل رپورٹر )حکومت پنجاب کے محفوظ بسنت منانے کے حوالے سے اقدامات ،  سیفی راڈزنہ لگوانے والے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف بھی گھیرائو تنگ  کیا جارہا ہے ،،بغیر سیفٹی راڈ موٹر سائیکل چلانے والوں کو اب جرمانوں کے علاہ مقدمات کا بھی سامنا کرناپڑے گا۔  تفصیل کے مطابق بغیر سیفٹی راڈ موٹر سائیکل چلانے والوں کو اب جرمانوں کے علاہ مقدمات کا بھی سامنا کرنے پڑے گا۔ پولیس کی جانب سے شہر کے مختلف تھانوں میں سیفٹی راڈز نا لگوانے والوں موٹر سائیکل سواروں کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے۔ ۔شہریوں کے خلاف درج ہونے والے مقدمات پولیس کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں۔ پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف مقدمات دفعہ 188 کے تحت درج کیے ہیں۔بسنت کے حوالے سے لاہور میں چھتوں کی ڈرون کیمروں کے ذریعے انسپکشن کا عمل جاری ہے۔ کمشنر لاہور مریم خان نے کہا کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ اور انتظامیہ کے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کمشنر لاہور نے واضح کیا کہ ہر میزبان چھت کا رجسٹرڈ ہونا لازمی ہے، جبکہ کوئیک رسپانس ٹیمیں ہر میزبان مقام اور رووف ٹاپ کے این او سی کی جانچ پڑتال کریں گی۔ صرف وہی چھتیں پتنگ بازی کے لیے استعمال کی جا سکیں گی جو انتظامیہ کے طے شدہ ایس او پیز کے مطابق رجسٹرڈ ہوں گی۔ ایس او پیز میں طے شدہ مخصوص تعداد سے زائد افراد کے اجتماع کی صورت میں چھت پر پتنگ بازی کے لیے این او سی کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔ لبرٹی چوک میں پاکستان کی سب سے بڑی پتنگ نصب کردی گئی، پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی کی جانب سے تیار کی گئی لکھن کٹ کی یہ دیوہیکل پتنگ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر تیار کی گئی، جس کی تیاری میں دس دن لگے۔چوک چوراہوں پر بسنت کے رنگ بکھر چکے ہیں جبکہ شہر کی اہم سڑکیں برقی قمقموں سے روشن کر دی گئی ہیں۔شہر بھر کی مارکیٹوں میں پتنگ بازی کے سامان کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔لاہور میں دوسرے روز بھی پتنگوں اور ڈور کی خریداری 18 کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ شہریوں نے دو دن میں مجموعی طور پر 34 کروڑ روپے خرچ کر ڈالے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق دوسرے روز چھ لاکھ سے زائد گڈے اور پتنگیں فروخت ہوئیں۔