اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ ان کی جماعت حکومت کے ساتھ مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گی اور اس حوالے سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ اسد قیصر اور دیگر پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔
حکومت پر تنقید اور پیکا ایکٹ کی مخالفت
بیرسٹر گوہر نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جلد بازی میں قوانین پاس کروا رہی ہے، جن میں پیکا ایکٹ کی ترامیم بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس قانون کے ذریعے حکومت کسی بھی شخص کو "فیک نیوز" کے زمرے میں لا کر کارروائی کر سکتی ہے، جو آزادی صحافت پر حملے کے مترادف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ:
میڈیا کے حقوق کی حمایت: "ہم میڈیا کے جائز حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے۔"
آزادی اظہار پر پابندی کی مذمت: "میڈیا کے ذریعے ہمیں عوامی مسائل کا علم ہوتا ہے اور حکومت اسی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔"
عدالت میں چیلنج: "اگر یہ قانون پاس ہو بھی جاتا ہے تو ہم اسے عدالت میں چیلنج کریں گے اور امید ہے کہ عدلیہ ہماری بات سنے گی۔"
مذاکرات کے لیے دی گئی مہلت ختم
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لیے حکومت کو 7 دن کا وقت دیا تھا، لیکن اب ان کی جماعت کل ہونے والی میٹنگ میں شامل نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے اسپیکر اور سیکرٹری کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
اسد قیصر کی گفتگو: "یہ سول مارشل لا ہے"
اس موقع پر پی ٹی آئی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بھی حکومت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو قوانین متعارف کرا رہی ہے وہ بنیادی طور پر "سول مارشل لا" کے مترادف ہیں۔
پیکا ایکٹ کی مخالفت: "ہم پیکا ایکٹ میں ترامیم کی مذمت کرتے ہیں اور اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلائیں گے۔"
تحریک چلانے کا اعلان: "ہم میڈیا سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو بلائیں گے اور آئین و قانون کی حکمرانی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔"
مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم کی ضرورت
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کرم کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو چکی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کے لیے یکجہتی ممکن ہے۔
نتیجہ
پی ٹی آئی کی قیادت نے نہ صرف حکومت کے اقدامات پر سخت تنقید کی بلکہ پیکا ایکٹ میں ترامیم کے خلاف سخت مزاحمت کا اعلان بھی کیا۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ یہ قوانین آزادی اظہار اور آئینی حقوق کے خلاف ہیں، اور ان کے خلاف ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔