حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے سیشن میں شرکت کریں گے:بیرسٹر گوہر

حکومت کے ساتھ مذاکرات کے تیسرے سیشن میں شرکت کریں گے:بیرسٹر گوہر

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے اہم بیان دیا ہے۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے حکومت کو یہ واضح کر دیا ہے کہ پارٹی اپنے مطالبات تحریری طور پر پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکراتی کمیٹی سے ملاقات نہ ہوئی تو پی ٹی آئی حکومتی کمیٹی کے ساتھ ملاقات کر لے گی، اور اگر حکومت نے ملاقات کی اجازت نہ دی تو پھر پی ٹی آئی اپنی حکمت عملی پر غور کرے گی۔بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ اگر کوئی دوست ملک پاکستان کو دعوت دے گا، تو پی ٹی آئی اسے قبول کرے گی۔ اسی طرح، اگر کسی دوست ملک کا سربراہ پاکستان آتا ہے اور حکومت ہمیں دعوت دیتی ہے تو ہم اسے بھی قبول کریں گے۔ انہوں نے امریکا کے حوالے سے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے ہی "ایبسولیوٹلی ناٹ" کہہ دیا ہے، اور پاکستان سے کسی بھی غلط کام کو قبول نہیں کریں گے۔پی ٹی آئی کے چیئرمین نے کہا کہ پارٹی کے دو اہم مطالبات ہیں جنہیں تحریری طور پر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور انہوں نے اس بات کو بھی واضح کیا کہ پارٹی کسی "ڈیل" کے لیے مذاکرات نہیں کر رہی۔

 ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی صرف ملک اور قوم کے مفاد میں بات چیت کے لیے تیار ہے، اور ان کے مطالبات کا مقصد کارکنوں کی رہائی اور ایک آزاد کمیشن کا قیام ہے۔بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ 20 جنوری تک بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے حوالے سے بات چیت ہوئی تھی، لیکن اس بات کا عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کا باقاعدہ آغاز نہیں ہوا تھا اور نہ ہی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی خاص پیغام آیا تھا۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پی ٹی آئی کے تمام مذاکراتی اقدامات صرف ملک اور قوم کے مفاد میں ہیں اور پارٹی کسی بھی مفاہمت یا ڈیل کے لیے مذاکرات میں شریک نہیں ہو رہی۔